آپکی آواز(ہالینڈ )۔۔ ہالینڈ  میں پاکستان کی سفیر محترمہ عفت عمران گردیزی صاحبہ نے حکومت پاکستان کی طرف سے 25اکتوبر 1980ءکے ہیگ کنونشن برائے ''بچوں کے بین الااقوامی اغواءکے سول پہلو '' کے ساتھ الحاق کی دستاویز جمع کرادی،چونکہ ڈچ حکومت ہیگ کنونشن کے محزن کے طورپرذمہ داری سرانجام دیتی ہے ۔چنانچہ الحاق کی دستاویز ڈچ وزارت خارجہ کی طرف محترمہ گوست بون نے وصول کی جوقانونی امور محکمہ کی سربراہ برائے معاہدہ ڈویژن ہیں ۔کنونشن ایک کثیر جہتی معاہدہ ہے جوان بچوں کی فوری طورپرواپسی کیلئے طریقہ کار فراہم کرتا ہے جنہیں بین الااقوامی حدود کے پاراغواءکرلیا گیا ہو۔اگرچہ پاکستان نے ماضی میںاس کنونشن پردستخط نہیں کئے تھے لیکن پاکستان نے ہمیشہ مالٹا پروسس کی حمایت کی ہے اوراس کے ساتھ منسلک رہا ہے جوبچوں کے تحفظ کیلئے تینوں ہیگ کنونشنز کی طرف سے رکن اورغیررکن ملکوں کے درمیان رابطے کاذریعہ رہا ہے ۔اس کنونشن میں پاکستان کی شمولیت ہماری طرف سے اپنے بچوں کے مفادات کواولین اہمیت دینے کی گواہی ہے ۔پاکستان کی اس کنونشن میں شمولیت کے نتیجہ میں بچوں کے بین الاقوامی اغواءکے واقعات میں یقینا کمی ہوگی ۔کنونشن کے دوسرے ارکان ملکوں کے ساتھ قانونی یکسانیت اورہم آہنگی کوفروغ ملے گااورہماری عدالتوں پربوجھ کم ہوگا ۔

آپکی آواز(ہالینڈ )۔۔ ہالینڈ میں پاکستان کی سفیر محترمہ عفت عمران گردیزی صاحبہ نے حکومت پاکستان کی طرف سے 25اکتوبر 1980ءکے ہیگ کنونشن برائے ”بچوں کے بین الااقوامی اغواءکے سول پہلو ” کے ساتھ الحاق کی دستاویز جمع کرادی،چونکہ ڈچ حکومت ہیگ کنونشن کے محزن کے طورپرذمہ داری سرانجام دیتی ہے ۔چنانچہ الحاق کی دستاویز ڈچ وزارت خارجہ کی طرف محترمہ گوست بون نے وصول کی جوقانونی امور محکمہ کی سربراہ برائے معاہدہ ڈویژن ہیں ۔کنونشن ایک کثیر جہتی معاہدہ ہے جوان بچوں کی فوری طورپرواپسی کیلئے طریقہ کار فراہم کرتا ہے جنہیں بین الااقوامی حدود کے پاراغواءکرلیا گیا ہو۔اگرچہ پاکستان نے ماضی میںاس کنونشن پردستخط نہیں کئے تھے لیکن پاکستان نے ہمیشہ مالٹا پروسس کی حمایت کی ہے اوراس کے ساتھ منسلک رہا ہے جوبچوں کے تحفظ کیلئے تینوں ہیگ کنونشنز کی طرف سے رکن اورغیررکن ملکوں کے درمیان رابطے کاذریعہ رہا ہے ۔اس کنونشن میں پاکستان کی شمولیت ہماری طرف سے اپنے بچوں کے مفادات کواولین اہمیت دینے کی گواہی ہے ۔پاکستان کی اس کنونشن میں شمولیت کے نتیجہ میں بچوں کے بین الاقوامی اغواءکے واقعات میں یقینا کمی ہوگی ۔کنونشن کے دوسرے ارکان ملکوں کے ساتھ قانونی یکسانیت اورہم آہنگی کوفروغ ملے گااورہماری عدالتوں پربوجھ کم ہوگا ۔

ملک  بھارت میں جب سے متعصب اورفرقہ پرست مودی سرکار برسراقتدارآئی ہے ،وہاں پربسنے والی اقلیتوں کاجینادوبھرہوگیاہے اوربھارتی سیکولرجمہوریت کابھانڈہ بیچ بازارمیں ہی نہیں بلکہ دنیابھرمیں اس کے چرچے شروع ہوگئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اندرون ملک میں بڑھتی ہوئی شورش اوربے چینی کوچھپانے کیلئے پاکستان کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرکے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے

ملک بھارت میں جب سے متعصب اورفرقہ پرست مودی سرکار برسراقتدارآئی ہے ،وہاں پربسنے والی اقلیتوں کاجینادوبھرہوگیاہے اوربھارتی سیکولرجمہوریت کابھانڈہ بیچ بازارمیں ہی نہیں بلکہ دنیابھرمیں اس کے چرچے شروع ہوگئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اندرون ملک میں بڑھتی ہوئی شورش اوربے چینی کوچھپانے کیلئے پاکستان کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرکے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے

،تاہم جس قدرانسانی حقوق کی پامالی ،لسانی ومذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیںشائدہی کسی اورملک میں اس کی نظیرملتی ہو۔ عمومی طورپربھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہدآزادی¿ کوہی تحریک کے طورپردیکھاجاتاہے تاہم ایسانہیں ہے۔بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ…