اوسلو(عامر بٹ) پاکستان کے 71 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں سفارتخانہ پاکستان اوسلو نے مقامی پاکستانی تنظیمات کے تعاون سے ایک پُروقار، خوبصورت اور رنگارنگ تقریب ایکے بَرگ پارک کے پُرفضا مقام پر منعقد کی ، جس میںبڑی تعداد میں نارویجن پاکستانیوں نے بھرپور شرکت کی۔ یوم آزادی کی تقریب سے قبل بچوں کی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ شرکت کی ، ریلی میں شریک بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔بچوںکی ریلی کی قیادت ناروے کے معروف سماجی رہنما صوفی محمد انور نے کی۔ریلی میں لوگ پاکستان اور ناروے کے جھنڈوں کو ہاتھوں میں اٹھائے پاکستان اور ناروے زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے۔

اوسلو(عامر بٹ) پاکستان کے 71 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں سفارتخانہ پاکستان اوسلو نے مقامی پاکستانی تنظیمات کے تعاون سے ایک پُروقار، خوبصورت اور رنگارنگ تقریب ایکے بَرگ پارک کے پُرفضا مقام پر منعقد کی ، جس میںبڑی تعداد میں نارویجن پاکستانیوں نے بھرپور شرکت کی۔ یوم آزادی کی تقریب سے قبل بچوں کی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ شرکت کی ، ریلی میں شریک بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔بچوںکی ریلی کی قیادت ناروے کے معروف سماجی رہنما صوفی محمد انور نے کی۔ریلی میں لوگ پاکستان اور ناروے کے جھنڈوں کو ہاتھوں میں اٹھائے پاکستان اور ناروے زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے۔

اوسلو(عامر بٹ)مسلم کمیونٹی دنیا بھر میں جہاں بھی آباد ہے سب سے پہلے وہ مساجد کی تعمیر کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کو عام کیا جا سکے۔ اوسلو کے مضافاتی علاقے درامن میں بھی مسلمان کمیونٹی اور بالخصوص پاکستانی کمیونٹی 70 کی دہائی میں مقیم ہونا شروع ہوئی ، کمیونٹی کے مقیم ہونے کے ساتھ ہی پاکستانی مسلمانوں نے مسجد کی جگہ کے حصول اور اسکی تعمیر کے لیے تگ و دو کرنا شروع کر دی۔ آخر کار30سال کی جہدو جہد کے بعد بلاآخر مسلمانوں کومسجد کو تعمیر کرنے کی اجازت ملی۔ تعمیر کے پہلے مرحلے میں 12 ملین کراﺅن خرچ کیے جا چکے ہیں ، جبکہ دوسرے مرحلے پر تقریباََ 9 ملین کراﺅنزکے اخراجات آئیںگے۔ دوسرا مرحلہ اگست سے شروع ہو کر جنوری میں ختم ہو گا۔ دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب میں اوسلو اور گردنواح سے بڑی تعداد میں علمائے کرام اور اہل اسلام نے شرکت کی اور اس کار خیر میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔

اوسلو(عامر بٹ)مسلم کمیونٹی دنیا بھر میں جہاں بھی آباد ہے سب سے پہلے وہ مساجد کی تعمیر کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کو عام کیا جا سکے۔ اوسلو کے مضافاتی علاقے درامن میں بھی مسلمان کمیونٹی اور بالخصوص پاکستانی کمیونٹی 70 کی دہائی میں مقیم ہونا شروع ہوئی ، کمیونٹی کے مقیم ہونے کے ساتھ ہی پاکستانی مسلمانوں نے مسجد کی جگہ کے حصول اور اسکی تعمیر کے لیے تگ و دو کرنا شروع کر دی۔ آخر کار30سال کی جہدو جہد کے بعد بلاآخر مسلمانوں کومسجد کو تعمیر کرنے کی اجازت ملی۔ تعمیر کے پہلے مرحلے میں 12 ملین کراﺅن خرچ کیے جا چکے ہیں ، جبکہ دوسرے مرحلے پر تقریباََ 9 ملین کراﺅنزکے اخراجات آئیںگے۔ دوسرا مرحلہ اگست سے شروع ہو کر جنوری میں ختم ہو گا۔ دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب میں اوسلو اور گردنواح سے بڑی تعداد میں علمائے کرام اور اہل اسلام نے شرکت کی اور اس کار خیر میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔

مادروطن اورہم وطنوں کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کومارنایا اس کے ہاتھوں مرنا ''ملازمت'' نہیں ہوسکتی،بلاشبہ یہ ایک'' مقدس مشن'' ہے۔پاکستان اورپاکستانیوں کے وردی پوش محافظ اپنی شناخت ظاہرکئے بغیر ہرشرکامقابلہ کرنیوالے آئی ایس آئی کے پراسرارکردار ہمارے'' خادم یاملازم'' نہیں''محبوب اور محسن'' ہیں۔پاکستان کے ساتھ ان نڈرمحافظوں کا'' تنخواہ'' نہیں ''وفا''کارشتہ ہے،ہمارے باوفااورباصفامحافظ راہ حق پرگامزن ہیں۔ پاک فوج کے سرفروش جانبازہوںیاپولیس کے فرض شناس جوان یہ ہمارے اپنے ہیں،کسی اہلکارکامتنازعہ انفرادی فعل قابل نفرت یاقابل گرفت ہوسکتا ہے لیکن ان اداروںکی مجموعی کارکردگی انتہائی شانداراورقابل رشک ہے ۔ فوج اورپولیس کی وردی کے رنگ مختلف ہیں مگرہمارے سرفروش جوانوں کے جوش سے ابلتے خون کارنگ سرخ جبکہ دونوں کے ہاتھوں میں سبزہلالی پرچم ہے۔ان کیلئے پاکستان محض وطن نہیں بلکہ ایک جنون اوران کی جنت ہے۔یہ شوق شہادت سے سرشار اورشیرخداحضرت علی ؓ کی تلوارہیں۔ پاکستان سے عشق ان کی رگ رگ میں خون بن کردوڑتا ہے ۔سکیورٹی فورسزمیں لوگ'' اعزازیہ'' کیلئے نہیں آتے بلکہ وردی میں اپنے خون سے دہشت گردی کے شعلے بجھانااورچراغ جلانا ان کا''اعزاز''اور''اعجاز'' ہے،یہ اعزازہرگزاعزازیہ کامحتاج نہیں ہوسکتا۔ مادروطن پاکستان کادفاع کرتے ہوئے دشمن کودھول چٹانااور میدان جنگ میں جوانمردی سے جام شہادت نوش کرنا ایک بیش قیمت سعادت اورعبادت ہے

مادروطن اورہم وطنوں کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کومارنایا اس کے ہاتھوں مرنا ”ملازمت” نہیں ہوسکتی،بلاشبہ یہ ایک” مقدس مشن” ہے۔پاکستان اورپاکستانیوں کے وردی پوش محافظ اپنی شناخت ظاہرکئے بغیر ہرشرکامقابلہ کرنیوالے آئی ایس آئی کے پراسرارکردار ہمارے” خادم یاملازم” نہیں”محبوب اور محسن” ہیں۔پاکستان کے ساتھ ان نڈرمحافظوں کا” تنخواہ” نہیں ”وفا”کارشتہ ہے،ہمارے باوفااورباصفامحافظ راہ حق پرگامزن ہیں۔ پاک فوج کے سرفروش جانبازہوںیاپولیس کے فرض شناس جوان یہ ہمارے اپنے ہیں،کسی اہلکارکامتنازعہ انفرادی فعل قابل نفرت یاقابل گرفت ہوسکتا ہے لیکن ان اداروںکی مجموعی کارکردگی انتہائی شانداراورقابل رشک ہے ۔ فوج اورپولیس کی وردی کے رنگ مختلف ہیں مگرہمارے سرفروش جوانوں کے جوش سے ابلتے خون کارنگ سرخ جبکہ دونوں کے ہاتھوں میں سبزہلالی پرچم ہے۔ان کیلئے پاکستان محض وطن نہیں بلکہ ایک جنون اوران کی جنت ہے۔یہ شوق شہادت سے سرشار اورشیرخداحضرت علی ؓ کی تلوارہیں۔ پاکستان سے عشق ان کی رگ رگ میں خون بن کردوڑتا ہے ۔سکیورٹی فورسزمیں لوگ” اعزازیہ” کیلئے نہیں آتے بلکہ وردی میں اپنے خون سے دہشت گردی کے شعلے بجھانااورچراغ جلانا ان کا”اعزاز”اور”اعجاز” ہے،یہ اعزازہرگزاعزازیہ کامحتاج نہیں ہوسکتا۔ مادروطن پاکستان کادفاع کرتے ہوئے دشمن کودھول چٹانااور میدان جنگ میں جوانمردی سے جام شہادت نوش کرنا ایک بیش قیمت سعادت اورعبادت ہے

قائد تحریک صوبہ پوٹھوہار راجہ اعجاز اور ترجمان وچیف آرگنائزرارشد سلہری کا خصوصی انٹرویو نیاصوبہ پوٹھوہار کی تحریک کے متعلق انہوں نےلائیو انٹرویو میں کیا کہا مکمل انٹرویو سُننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

قائد تحریک صوبہ پوٹھوہار راجہ اعجاز اور ترجمان وچیف آرگنائزرارشد سلہری کا خصوصی انٹرویو نیاصوبہ پوٹھوہار کی تحریک کے متعلق انہوں نےلائیو انٹرویو میں کیا کہا مکمل انٹرویو سُننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

ڈنمارک ادارہ آپکی آواز۔۔۔۔پاک نیوز یو کے کے ملک عمران شریف نے کبیر شاہ صاحب کو لائیو انٹرویودیتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر انہوں نے کیا کہا سننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

ڈنمارک ادارہ آپکی آواز۔۔۔۔پاک نیوز یو کے کے ملک عمران شریف نے کبیر شاہ صاحب کو لائیو انٹرویودیتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر انہوں نے کیا کہا سننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

 

ڈنمارک۔۔۔آپکی آواز۔۔۔ نوجوان سیاست دان آنے والے پارلیمنٹ کے ٹکٹ ہولڈر سابقہ سٹی کونسلر ملک سکندر صدیق نے ادارہ آپکی آوازپر لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سُننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

ڈنمارک۔۔۔آپکی آواز۔۔۔ نوجوان سیاست دان آنے والے پارلیمنٹ کے ٹکٹ ہولڈر سابقہ سٹی کونسلر ملک سکندر صدیق نے ادارہ آپکی آوازپر لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سُننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

صراط مستقیم یعنی راہ راست کانام سیاست نہیں ، کیونکہ '' پلٹنا جھپٹنا اورجھپٹ کرپلٹنا '' میدان سیاست کی مہارت اور بنیادی ضرورت ہے۔شعبہ سیاست میںچارقدم اگربڑھنے کیلئے کبھی دوقدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے۔سیاست سانپ اورسیڑھی کے کھیل کی مانند ہے جولوگ یہ کھیلتے رہے ہیں انہیں بخوبی اندازہ ہوگا۔میں عینی شاہدہوں کئی سیاستدانوں نے دوچاربار زیروسے سٹارٹ لیااورپھرکامیابی کی سیڑھی چڑھتے چلے گئے پھرانہیں روکنا محال ہوگیا جبکہ کچھ بلندی سے انتہائی پستی میں جاگرے اورپھرمقدرنے انہیں دوبارہ سنبھلنے اورکوئی چال چلنے کی مہلت نہیں دی۔زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح سیاست میں بھی سب کچھ انسان کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا

صراط مستقیم یعنی راہ راست کانام سیاست نہیں ، کیونکہ ” پلٹنا جھپٹنا اورجھپٹ کرپلٹنا ” میدان سیاست کی مہارت اور بنیادی ضرورت ہے۔شعبہ سیاست میںچارقدم اگربڑھنے کیلئے کبھی دوقدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے۔سیاست سانپ اورسیڑھی کے کھیل کی مانند ہے جولوگ یہ کھیلتے رہے ہیں انہیں بخوبی اندازہ ہوگا۔میں عینی شاہدہوں کئی سیاستدانوں نے دوچاربار زیروسے سٹارٹ لیااورپھرکامیابی کی سیڑھی چڑھتے چلے گئے پھرانہیں روکنا محال ہوگیا جبکہ کچھ بلندی سے انتہائی پستی میں جاگرے اورپھرمقدرنے انہیں دوبارہ سنبھلنے اورکوئی چال چلنے کی مہلت نہیں دی۔زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح سیاست میں بھی سب کچھ انسان کی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا

صراط مستقیم یعنی راہ راست کانام سیاست نہیں ، کیونکہ ” پلٹنا جھپٹنا اورجھپٹ کرپلٹنا ” میدان سیاست کی مہارت اور بنیادی ضرورت ہے۔شعبہ سیاست میںچارقدم اگربڑھنے کیلئے کبھی دوقدم پیچھے بھی ہٹنا پڑتا ہے۔سیاست سانپ اورسیڑھی کے کھیل کی…