اوسلو(عقیل قادر) ناروے میں سماجی تنظیم ''سکون''کے زیر اہتمام ایک چیرٹی ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میںگردو نواح سے سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز حافظ محمد اسلم حق نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی معروف اداکار حمزہ علی عباسی اور چیئرمین اخوت یونیورسٹی ڈاکٹر امجد ثاقب تھے جبکہ تقریب کی صدارت سکون کے چیئرمین شاہد جمیل نے کی۔ تقریب میںسفیر پاکستان ظہیر پرویز خان، سویڈین سے سبرینہ خان، پروفیسر تھُورَن سجاداورسیاسی رہنما ناصر احمد نے خصوصی شرکت کی۔ ظہیر پرویز خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکون فلاح انسانیت کے لیے عظیم خدمات سرانجام دے رہی ہے اور انسانیت کی خدمت سے بہتر اور کوئی کام ہو نہیں سکتا۔ شاہد جمیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکون نے گذشتہ کئی سالوں سے معذور افراد کے لیے وہیل چیئرز کے ذریعے مدد کی ہے اور اس سال سے ان کی تنظیم معذور افراد کے لیے روزگار سکیم شروع کرنے جا رہی ہے تاکہ معاشرہ انکو نظر انداز نہ کرے اور انکی معذوری کے سبب دوسرے انسانوں سے کمتر نہ سمجھے، بلکہ ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی معاشرے کا حصہ بن کر ایک مثبت کردار ادا کر سکیں۔ حمزہ علی عباسی نے سکون کی ٹیم کو خوبصورت ایونٹ آرگنائز کرنے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ سکون کو سپورٹ کرنے کے لیے چیئرمین اخوت یونیورسٹی ڈاکٹر امجد ثاقب بھی موجود ہیں اور دونوں مل کر فلاح انسانیت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اخوت پاکستان میں اب تک 23 لاکھ گھرانوں میں 53 ارب روپے سے زائد رقم خرچ کر چکی ہے
Integration یا Assimilation? اینٹیگریشن کا مطلب یہ ہے کہ اپنا مذھب, کلشر اور دوسری روایات کو اپنے ساتھ رکھتے ہوئے نئے معاشرے کا فعال حصہ بن جانا- مسلمان جہاں جاتا ہے- اس معاشرے کا فورََا ہی فعال حصہ بن جاتا ہے- ایسی می لیشن کا مطلب ہے کہ اپنا مذھب, کلچر اور روایات کو چھوڑ کر نئے معاشرے میں ضم ہوجانا اور اپنا وجود کھوبیٹھنا- یہ کام مسلمان کبھی نہیں کرسکتے- ڈنمارک اور یورپ کے سیاسی لیڈر الیکشن کے قریب آکر اس مسئلہ کو ابھارتے ہیں کہ مسلمانوں کی اینٹیگریشن نہیں ہورہی---- یہ کھلا جھوٹ ہے- یہ دراصل اینٹی گریشن کے پردے میں اسی می لیشن چاہتے ہیں اور *ایں خیال است  *و محال است و جنوں  *اصل میں یہ لوگ اپنے اصول چھوڑنے کے مجرم ہیں- مسلمان نہیں!*مسیحی مسلمانوں کی حمایت کریں* (محمداسلم علی پوری- ڈنمارک) تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ حالات نے سیدنا مسیح علیہ السلام کو ماننے والی دوقوموں یعنی مسیحیوں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا ہے- مسلمان یورپ اور دیگر مسیحی معاشروں میں اسلامی اصولوں کے مطابق صحیح زندگی گذارتے ہیں- اسلئے مسیحی معاشرے میں ضم ہونا ان کامسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ تو مسیحیوں کا اپنا ہے جو اپنا مذھب بھول چکے ہیں-
*Let us save our innocent children* The German politician and an aktive Social Worker Mrs.Samina Khan's interview for Danish Radio "Aapkiawaz" by Muhammad Aslam Ali Puri and Raja Ghafoor about "Madeline Mc Cann case and Offenbach Pedophilia"  *اپنے معصوم بچوں کی پوری طرح حفاظت کیجئیے*جرمن کی سیاستدان اور پرجوش سماجی کارکن محترمہ ثمینہ خاں کا ڈنمارک کے ریڈیو "آپکی آواز" کیلئے بچوں کو بیچنے اور انہیں اغوا کرکے ان پر ہولناک جنسی تشدد کے بارے میں ایک تہلکہ خیز انٹرویو: میزبان راجہ غفورافضل اور محمداسلم علی پوری

 

ڈنمارک۔۔۔سامعین و ناظرین ممتاز ملک جو کہ فرانس میں رہتی ہیں،جن کی تین کتابیں مارکیٹ میں آ چکی ہیں اور دو آنے والی ہیں،وہ نعت خواں،کالم نگار۔ٹی وی ہوسٹ بھی ہیں انہوں نے ادارہ آپکی آواز پر لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سننے کے لئے تصویر پر کلک کریں
Journalist. TV Reporter at Express News TVعمران اصغرنے ادارہ آپکی آوازڈنمارک کو پاکستان سے لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سُننے کے لئے تصویر پر کلک کریں اورمکمل انٹرویو سُنیں۔
تجزیہ نگار ، ٹی وی ہوسٹ شاہد جنجوعہ نے برطانیہ سے ادارہ آپکی آواز کو لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سُننے کے لئے تصویر پر کلک کریں اور مکمل انٹرویو سنیں۔
ادارہ آپکی آواز ڈنمارک۔۔۔جنرل گل حمید صاحب کے صاحبزادے محمدعبداللہ گل نے ریڈیو ٹی وی آپکی آوازکو لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سننے کیلئے تصویرپرکلک کریں اور مکمل انٹرویو سُنیں۔