ڈنمارک آپکی آواز۔۔۔ڈاکٹر عارف کسانہ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں انہوں ادارہ آپکی کی آواز کو لائیوانٹرویو میں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا کہا سُننے کےلئے تصویر پر کلک کریں اور مکمل انٹرویو سُنیں۔۔۔۔
دنیا کے مہذب اورمتمدن معاشروں میں '' استحکام ریاست'' کیلئے سیاست کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں چندخاندان ریاست کیلئے نہیں بلکہ اپنی نجی تجارت چمکانے کیلئے مقروض ریاست کے ساتھ بدترین سیاست کر ر ہے ہیں اوراگراس بار بھی چوروں کا بے رحم احتساب نہ ہواتوشایدآئندہ بھی یہ کوتاہ اندیش سیاست کی آڑ میں ریاست کاپوسٹ مارٹم کرتے رہیں گے۔جو چار دہائیوں تک ملک میں شیطانیاں، من مانیاں،بداعمالیاں ،بدعنوانیاں اوربدزبانیاں کرتے رہے ہیں،ان عناصر نے تین ماہ کی نوزائیدہ حکومت سے حساب مانگا ہے مگراپنے احتساب کوسیاسی انتقام قراردے رہے ہیں۔

    نیب کسی آسیب کی طرح چوروں کوچمٹ گیا ہے لہٰذاءدرد کی شدت سے چورکچھ زیادہ شورمچاررہے ہیں،میں توچوروں سے ہمدردی اورنرمی کوبھی گناہ سمجھتاہوں۔ کپتان چوروں کوڈھیل دے یاان سے ڈیل کرے ،مجھے مضبوط اعصاب والے عمران خان…

ڈنمارک آپکی آواز۔۔۔۔ادارہ آپکی آواز پر تجزیہ نگار ملک سمیعُ اللہ صاحب نے خصوصی انٹرویوز دیتے ہوئے کیا فرمایا ،سُننے کے لئے۔۔۔ تصویر پر کلک
ڈنمارک آپکی آواز۔۔۔سفیر پاکستان سید ذوالفقار گردیزی صاحب نے ادارہ آپکی آواز کو اپنے لائیو انٹرویو میں پاکستان میں اورسیز کو ووٹ کا حق ملنے پر سامعین اور ناظرین کو کیا کہا ،سُننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔اس کے ساتھ سفیر پاکستان نے چھ ستمبر کی بھی دعوت پاکستان ایمبیسی میں منانے کی دی۔۔۔
ڈنمارک۔۔۔آنے والے پارلیمنٹ کے الیکشن میں اپنی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر شہزاد ریاض جو کہ کوپن ہیگن سے الیکشن لڑ رہے ہیں ، وہ پاکستانی کمیونٹی کے اکیلے اُمیدوار ہیں ،شہزاد ریاض نے ادارہ آپکی آواز پر لائیو پروگرام میں سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کیا کہا،پورا انٹرویو سُننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔
اوسلو(عامر بٹ) پاکستان کے 71 ویں یوم آزادی کے سلسلے میں سفارتخانہ پاکستان اوسلو نے مقامی پاکستانی تنظیمات کے تعاون سے ایک پُروقار، خوبصورت اور رنگارنگ تقریب ایکے بَرگ پارک کے پُرفضا مقام پر منعقد کی ، جس میںبڑی تعداد میں نارویجن پاکستانیوں نے بھرپور شرکت کی۔ یوم آزادی کی تقریب سے قبل بچوں کی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے بچوں کے ہمراہ شرکت کی ، ریلی میں شریک بچوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔بچوںکی ریلی کی قیادت ناروے کے معروف سماجی رہنما صوفی محمد انور نے کی۔ریلی میں لوگ پاکستان اور ناروے کے جھنڈوں کو ہاتھوں میں اٹھائے پاکستان اور ناروے زندہ باد کے نعرے بلند کرتے رہے۔
اوسلو(عامر بٹ)مسلم کمیونٹی دنیا بھر میں جہاں بھی آباد ہے سب سے پہلے وہ مساجد کی تعمیر کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کو عام کیا جا سکے۔ اوسلو کے مضافاتی علاقے درامن میں بھی مسلمان کمیونٹی اور بالخصوص پاکستانی کمیونٹی 70 کی دہائی میں مقیم ہونا شروع ہوئی ، کمیونٹی کے مقیم ہونے کے ساتھ ہی پاکستانی مسلمانوں نے مسجد کی جگہ کے حصول اور اسکی تعمیر کے لیے تگ و دو کرنا شروع کر دی۔ آخر کار30سال کی جہدو جہد کے بعد بلاآخر مسلمانوں کومسجد کو تعمیر کرنے کی اجازت ملی۔ تعمیر کے پہلے مرحلے میں 12 ملین کراﺅن خرچ کیے جا چکے ہیں ، جبکہ دوسرے مرحلے پر تقریباََ 9 ملین کراﺅنزکے اخراجات آئیںگے۔ دوسرا مرحلہ اگست سے شروع ہو کر جنوری میں ختم ہو گا۔ دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب میں اوسلو اور گردنواح سے بڑی تعداد میں علمائے کرام اور اہل اسلام نے شرکت کی اور اس کار خیر میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔