ہمارا تو یہی گمان تھا  شاید خان صاحب عرصہ سے کرپٹ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ ، پارلیمنٹ میں گھیراﺅ اور اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مقصد کچھ اور نہیں صرف اور صرف ملکی دولت لوٹنے والوں کا”احتساب“ ہے، مگر چاند میاں ہمارے اس موقف کے حامی نظر نہیں آتے۔کہتے ہیں خان صاحب ایک طرف میاں صاحب کی وزارتِ ”عظمیٰ“ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں تو دوسری جانب انہوں نے عدالتِ ”عظمیٰ“ میں بھی کیس دائر کر رکھا ہے۔ بیک وقت دونوں محاذوں پر میاں صاحب سے لڑائی کی بنیادی وجہ کچھ اور نہیں صرف ”عظمیٰ“ ہے جو ”وزارتِ عظمیٰ“ اور ”عدالتِ عظمیٰ“ دونوں میں مشترک ہے۔

ماہرین علمِ نجوم دعویٰ کرتے ہیں کہ خان صاحب کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کے بجائے صرف ”شادی“ کی لکیر ہے، دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خان صاحب وزارتِ عظمیٰ کی امید دِل سے نکال…

آپکی آواز(ہالینڈ )۔۔ ہالینڈ  میں پاکستان کی سفیر محترمہ عفت عمران گردیزی صاحبہ نے حکومت پاکستان کی طرف سے 25اکتوبر 1980ءکے ہیگ کنونشن برائے ''بچوں کے بین الااقوامی اغواءکے سول پہلو '' کے ساتھ الحاق کی دستاویز جمع کرادی،چونکہ ڈچ حکومت ہیگ کنونشن کے محزن کے طورپرذمہ داری سرانجام دیتی ہے ۔چنانچہ الحاق کی دستاویز ڈچ وزارت خارجہ کی طرف محترمہ گوست بون نے وصول کی جوقانونی امور محکمہ کی سربراہ برائے معاہدہ ڈویژن ہیں ۔کنونشن ایک کثیر جہتی معاہدہ ہے جوان بچوں کی فوری طورپرواپسی کیلئے طریقہ کار فراہم کرتا ہے جنہیں بین الااقوامی حدود کے پاراغواءکرلیا گیا ہو۔اگرچہ پاکستان نے ماضی میںاس کنونشن پردستخط نہیں کئے تھے لیکن پاکستان نے ہمیشہ مالٹا پروسس کی حمایت کی ہے اوراس کے ساتھ منسلک رہا ہے جوبچوں کے تحفظ کیلئے تینوں ہیگ کنونشنز کی طرف سے رکن اورغیررکن ملکوں کے درمیان رابطے کاذریعہ رہا ہے ۔اس کنونشن میں پاکستان کی شمولیت ہماری طرف سے اپنے بچوں کے مفادات کواولین اہمیت دینے کی گواہی ہے ۔پاکستان کی اس کنونشن میں شمولیت کے نتیجہ میں بچوں کے بین الاقوامی اغواءکے واقعات میں یقینا کمی ہوگی ۔کنونشن کے دوسرے ارکان ملکوں کے ساتھ قانونی یکسانیت اورہم آہنگی کوفروغ ملے گااورہماری عدالتوں پربوجھ کم ہوگا ۔
ملک  بھارت میں جب سے متعصب اورفرقہ پرست مودی سرکار برسراقتدارآئی ہے ،وہاں پربسنے والی اقلیتوں کاجینادوبھرہوگیاہے اوربھارتی سیکولرجمہوریت کابھانڈہ بیچ بازارمیں ہی نہیں بلکہ دنیابھرمیں اس کے چرچے شروع ہوگئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اندرون ملک میں بڑھتی ہوئی شورش اوربے چینی کوچھپانے کیلئے پاکستان کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرکے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے

،تاہم جس قدرانسانی حقوق کی پامالی ،لسانی ومذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیںشائدہی کسی اورملک میں اس کی نظیرملتی ہو۔ عمومی طورپربھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہدآزادی¿ کوہی تحریک کے طورپردیکھاجاتاہے تاہم ایسانہیں ہے۔بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ…

معزز سامعین آپکی معلومات میں اضافہ کی خاطر ایک اہم نقطہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے مولانا رومی کی ٹوپی قائد اعظم کی جناح کیپ علامہ اقبال کی ٹوپی سرحدی گاندھی کی ٹوپی سر سید کی ٹوپی پہن کر آپ کی صفوں میں گھس کر آپ کے ای میل ایڈریس آپ کے موبائل نمبر اور پرسنل نمبر اور اکاونٹ نمبر میس یوز کرتے ہیں آپ بہت محتاط رہیں۔اچھے کام کیلے ٹوپیاں بدل بدل کر سامنے آنے والوں کی بجائے ملک اور اور قوم کا درد رکھنوں والوں سےضرور تعاون  کریں۔
پنجاب اسمبلی کے ممبر چوہدری شبیر کوٹلہ نے خصوصی انٹرویو اورسیز کے حوالے سے ادارہ آپ کی آواز کو دیا پورا انٹرویو سننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے سپوکس مین شاکر قریشی نے ادارہ آپکی آواز کو خصوصی انٹرویو دیا سننے کیلئے فوٹو پر کلک کریں
radio aapkiawaz denmark live interview syed sabir bukhari nawai waqt pakistan