آپکی آواز۔۔۔۔۔  پچھلے چندبرسوں میں بالخصوص الیکٹرانک میڈیانے جس سرعت کے ساتھ اپناوجودمنوایا ہے اس نے ساری دنیامیں ہونے والی کسی بھی خبرکوپل بھرمیں جہاں ناظرین کو باخبر رکھا ہوا ہے وہاں بدقسمتی سے ہمارے میڈیا،سول سوسائٹی حتی کہ اہل سیاست کے برخوردارغلط قسم کے حلقے ریاست اورریاستی اداروں کومختلف حوالوں سے تنقیدبلکہ تنقیص کاہدف بنانااپنافرض سمجھتے ہوئے میڈیاکی بے مہارآزادی کاناجائزفائدہ بھی اٹھارہے ہیں۔مزیدبدقسمتی یہ کہ اس شوقِ فضول اورمشق لاحاصل کووہ دانشوری اورجدت پسندی کی علامت قراردے رہے ہیںاوراپنے غیرملکی بشمول بھارتی آقاوں کوخوش کررہے ہیں۔ خودحکومت میں شامل بعض بزرجمہرفرماتے ہیں کہ طاغوتی طاقتیں عدلیہ اور بعض بااثراداروں پردباو ڈال کراپنے مذموم مقاصدکی تکمیل میں لگی ہوئی ہیں۔اس قبیل کے بعض عناصر پاک فوج اورسول انتظامیہ میں ہم آہنگی کے خوش آئندامکانات معدوم کرنے میں مشغول ہیں۔محب وطن اورمعتدل ومیانہ روی مبصرین نے اس صورتحال کاجائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے معاشرتی ،سیاسی اورریاستی ڈھانچے میں بہت سی کوتاہیاں ہیں لیکن اس حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ امربھی پیش نظررہناچاہئے کہ خدانخواستہ ہماری قومی سلامتی اوراس کے محافظ اداروں کوکوئی گزندپہنچی تو اجتماعی طورپرملک وقوم کوناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتاہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز برطانیہ فارورڈ بلاک کے بانی ممبر ،سوشل ورکر شاکر قریشی نے ادارہ آپکی آوازپر لائیو انٹرویو میں کیا انکشافات کیئے ؟ تصویر پر کلک کریں۔

 

آے آر وائی ٹی وی کے اظہر فاروق نے ادارہ آپ کی آواز کو لائیو انٹرویو دیتے ہوئے کیا کہا سننے کیلئے تصویر پر کلک کریں۔

 

حافظ احسان کھوکھر صاحب وفاقی محتسب اعلی نے ادارہ آپکی آواز کو خصوصی طور پر انٹرویو دیا اور بہت ساری محلومات ہمارے سامعین کو دیں۔سُننے کیلئے فوٹو پر کلک کریں۔

 

ادرہ آپکی آواز پر پاکستان مسلم لیگ ن فارورڈ بلاک کے بانی ممبر شاکر قریشی نے مسلم لیگ ن برطانیہ کے صدر زبیر گل پر حملے کے شدید الفاظ میں مذمت کی، شاکر قریشی نے کیا کہافوٹو پر کلک کریں۔
آپکی آواز۔۔۔۔ ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان،مرکزی چیف آرگنائزر میاں محمد سعید کھوکھر ، سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،سینئر نائب صدور ندیم اشرف،میاں زاہد لطیف،سلمان پرویز،ممتازحیدراعوان ، ناصرچوہان ایڈووکیٹ ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات نسیم الحق زاہدی، صدر مدینہ منورہ سرفرازخان نیازی ،صدر پنجاب محمدیونس ملک،نائب صدرشبیرحسین ، صدرچنیوٹ راناشہزادٹیپو ،صدرفیصل آبادندیم مصطفی اور صدر قصور میاں اویس علی نے کہا ہے کہ چوری روکنے کیلئے نظام کاہرچورراستہ بندکرناہوگا۔پاکستان کے وسائل کازیادہ ترحصہ چور ی ہوجاتا ہے اور ان عادی چوروں کے پاس چوری کاپیسہ انہیں احتساب سے بچاتے کے کام آتا ہے ۔ پاکستان میں صرف احتساب کے پائیداراورخودکار نظام سے بدعنوانی کاباب بندہوگا۔پاکستان میں چوروں کی بجائے الٹانیب کاگھیراﺅکیا جارہا ہے۔نیب نے توپھربھی کچھ نہ کچھ رقم برآمد کی ،نیب کے ناقدین اورحاسدین قوم کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کریں۔اس ملک میں توچوربھی احتساب کے ڈر سے انتقام کاشورمچاتے اورعوام کی ہمدردیاں بٹورتے ہیں۔
ہمارا تو یہی گمان تھا  شاید خان صاحب عرصہ سے کرپٹ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ ، پارلیمنٹ میں گھیراﺅ اور اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مقصد کچھ اور نہیں صرف اور صرف ملکی دولت لوٹنے والوں کا”احتساب“ ہے، مگر چاند میاں ہمارے اس موقف کے حامی نظر نہیں آتے۔کہتے ہیں خان صاحب ایک طرف میاں صاحب کی وزارتِ ”عظمیٰ“ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں تو دوسری جانب انہوں نے عدالتِ ”عظمیٰ“ میں بھی کیس دائر کر رکھا ہے۔ بیک وقت دونوں محاذوں پر میاں صاحب سے لڑائی کی بنیادی وجہ کچھ اور نہیں صرف ”عظمیٰ“ ہے جو ”وزارتِ عظمیٰ“ اور ”عدالتِ عظمیٰ“ دونوں میں مشترک ہے۔

ماہرین علمِ نجوم دعویٰ کرتے ہیں کہ خان صاحب کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کے بجائے صرف ”شادی“ کی لکیر ہے، دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خان صاحب وزارتِ عظمیٰ کی امید دِل سے نکال…