<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Columns &#8211; Radio Aap ki Awaz</title>
	<atom:link href="http://aapkiawaz.dk/category/columns/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://aapkiawaz.dk</link>
	<description>FM 92.9 - Urdu Talk Radio &#38; Television</description>
	<lastBuildDate>Sun, 25 Feb 2018 08:52:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.4.4</generator>
	<item>
		<title>نیکی کسی کی میراث نہیں ہے طارق محمود مرزا ۔سڈنی ، آسٹریلیا</title>
		<link>http://aapkiawaz.dk/2018/02/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%ab-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%92-%d8%b7%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%b1%d8%b2/</link>
					<comments>http://aapkiawaz.dk/2018/02/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%ab-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%92-%d8%b7%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%b1%d8%b2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Raja Ghafoor Afzal]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Feb 2018 08:51:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://aapkiawaz.dk/?p=3781</guid>

					<description><![CDATA[میں اور میری اہلیہ ۳۱۰۲میں آسٹریلیا سے فریضہِ حج ادا کرنے کے لئے گئے۔ اس غرض سے ہمیں پاسپورٹ، تصاویر، حفاظتی ٹیکے لگوانے کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ، نکاح نامے کی تصدیق اور کسی امام مسجد سے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل...]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2018/02/tariq-s.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-3782" src="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2018/02/tariq-s.jpg" alt="" width="297" height="297" srcset="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2018/02/tariq-s.jpg 297w, http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2018/02/tariq-s-150x150.jpg 150w" sizes="(max-width: 297px) 100vw, 297px" /></a><br />
میں اور میری اہلیہ ۳۱۰۲میں آسٹریلیا سے فریضہِ حج ادا کرنے کے لئے گئے۔ اس غرض سے ہمیں پاسپورٹ، تصاویر، حفاظتی ٹیکے لگوانے کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ، نکاح نامے کی تصدیق اور کسی امام مسجد سے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں ایک ہندو لیڈی ڈاکٹر، ایک عیسائی پولیس آفیسر اور ایک امام مسجد کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔<br />
ڈاکٹر شیلا برسوں سے ہماری فیملی ڈاکٹر ہے۔ڈاکٹر شیلا اور اس کے خاوند ڈاکٹر ستیش بھٹ کی سرجری ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں ہے۔ ڈاکٹر شیلا نے سعودی سفارت خانے کی ہدایت کے مطابق حفاظتی ٹیکے لگائے اور سرٹیفیکیٹ دے دیا ۔ اس کے ساتھ اس نے احتیاطََ سعودی عرب میں قیام کے دوران مختلف ممکنہ بیماریوں کے نسخے بھی لکھ دیے۔ پھر اس نے کافی وقت صرف کرکے ہم دونوں کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ بنائے جس میں درج تھا کہ ہمیں ان دواﺅں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایئر پورٹ پر ان دواﺅں کے بارے میں کوئی سوال پوچھے تو اس کا جواب ہمارے پاس اس سرٹیفیکیٹ کی صورت میں موجود ہو۔ اس طرح اس نے ہمیں کسی ممکنہ پریشانی سے بچانے کا پورا انتظام کیا۔ان دواﺅں میں عام استعمال کی ادویات جیسے قے روکنے کی دوا، الرجی کی دوا، ایڑھیاں پھٹنے کی دوا، نزلہ زکام اور گلہ خراب ہونے کی دوا شامل تھیں ۔<br />
آسٹریلیا میں ڈاکٹر کسی بھی دوا کا نسخہ لکھ کر دینے میں بہت احتیاط کرتے ہیں کیونکہ ان کی فیس حکومت ادا کرتی ہے۔ دواو¾ں کی قیمت میں بھی حکومت کا حصہ ہوتا ہے ۔ یعنی مریض کو کو عموماََ دوا کی پوری قیمت نہیں دینی پڑتی ہے۔ اس میں سے کچھ حصہ حکومت ادا کرتی ہے ۔ اس لیے ڈاکٹر بغیرضرورت اور بغیربیماری کے کبھی دوا لکھ کر نہیں دیتے۔ عام حالات میں ڈاکٹر شیلا بھی یہی کرتی تھی ۔ ہمیں اتنی ساری دوائیں لکھ کر دینے کی وجہ اس نے یہ بتائی ” دورانِ حج وہاںبہت خلقت جمع ہوتی ہے۔ مختلف بیماریوں کے جراثیم عام ہوتے ہیں۔ اس سے بہت سے لوگ متاثر ہو جاتے ہیں۔ تقریباً ہر آدمی پر یہ بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس یہ دوائیں ہو ں گی اور وقت پر استعمال کریں گے تو ان امراض سے بچاﺅ ممکن ہو سکے گا“<br />
ڈاکٹر شیلا نے درست کہا تھا سفرِ حج میں اور قیام حرمین شریفین کے دوران میںہمیں ان دواﺅں کی بار بار ضرورت پڑی اوریہ دوائیں ہمارے بہت کام آئیں۔ اگر یہ دوائیں ہمارے پاس نہ ہوتیں تو یقینا ہمیںسخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ہم اپنی اس ڈاکٹر کے ہمیشہ ممنون رہیںگے۔ خدا اس کو سکون اور شانتی دے کیونکہ خدا تو سب کا ہے ۔<br />
نکاح نامے کی تصدیق کی باری آئی تو اس کی شرط یہ تھی کہ کوئی پولیس آفیسر ہی اس کی تصدیق کر سکتا ہے ۔ یہ شرط معمول سے ہٹ کر تھی کیونکہ عام طور پر آسٹریلیا میں دستاویزات کی تصدیقJustice of Peace جسے عرف عام میں جے پی کہا جاتا ہے، کرتے ہیں۔ یہ عام شہریوںمیں سے نامزد کیے جاتے ہیں۔ میرے دوستوں میں سے بھی چند ایک جے پی ہیں۔ ہمیں پاکستانی جے پی کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب کسی اُردو دستاویز کی تصدیق کرانی پڑ جائے۔ یہ جے پی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہوتے ہیں۔ مثلاً کیمسٹ، پوسٹ آفس کا کلرک، بنک اسٹاف، ٹریول ایجنٹ یا دُکاندار یہ ذمہ داری لیتے ہیں ۔ تا کہ لوگ آسانی سے ان تک پہنچ کر کاغذات کی تصدیق کروا سکیں۔<br />
میرا نکاح نامہ اُردو میں ہے۔ ماہ وسال کی گردش کے ساتھ دولہا اور دلہن کی طرح نکاح نامہ بھی عمر رسیدہ اور خستہ حال ہو چکا ہے۔ وہ اپنی ابتدائی رنگت اور شکل وشباہت کھو کر زردی مائل اور گھسے پٹے کاغذ میں بدل چکا ہے۔ اگرچہ میں نے اس پر میک اپ کی تہیں( پلاسٹک کوٹنگ) چڑھا کر اور زمانے کے گرم وسرد سے محفوظ رکھنے کی اپنی سی کوشش کرکے اس کی چمک دمک برقرار رکھنا چاہی لیکن عمررسیدہ مرد اور بوسیدہ کاغذ کی کڑک کب قائم رہتی ہے۔ لہٰذا وہ اپنی اُڑی اُڑی رنگت، پیلاہٹ اور مدہم الفاظ کی وجہ سے تقریباً ناقابل فہم ہو چکا ہے ۔ برسوں پہلے جب میں آسٹریلیا آ رہا تھا تو اسلام آباد سے میں نے اس کا انگریزی ترجمہ کروایا تھاوہ اب کام آیا۔ لیکن تصدیق بہرحال اصلی نکاح نامے کی ہو ناتھی۔ یہ اصل نکاح نامہ اور اس کا انگریزی ترجمہ لے کر میں مقامی پولیس اسٹیشن گیا۔ کاﺅنٹر پر موجود پولیس آفیسر کو میں نے نکاح نامہ، اس کا انگریزی ترجمہ اور سعودی سفارت خانے کا ویزہ فارم دکھایا تو وہ تینوں کاغذات لے کر دفتر کے اندر چلا گیا۔ تقریباً پانچ چھ منٹ کے بعد وہ واپس آیا تو اس کا منہ ایسے لٹکا ہوا تھا جیسے رس بھرا آم درخت سے گرنے والا ہو۔ اس نے جب بات کی تو لگا کہ بس رو ہی دے گا” مجھے افسوس ہے میں اس دستاویز کی تصدیق نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے اس کا ایک لفظ بھی سمجھ نہیں آیا ہے۔ میں نے انگریزی ترجمہ دیکھا ہے لیکن اس سے اس لیے مدد نہیں ملتی کہ میں نے اردو نکاح نامے کی تصدیق کرناہے جسے میں پڑھ نہیں سکتا۔ اس لیے میں معذرت خواہ ہوں“<br />
اس پولیس آفیسر کے انکار پر اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کرمجھے غصے سے زیادہ اس پر ترس آیا۔ اس کے پریشان حال چہرے کو دیکھ کر میں نے تسلی آمیز لہجے میں کہا ”کوئی بات نہیں آپ کاغذات واپس کر دیں میں معلوم کر وں گا کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے“<br />
اس نے حیران ہو کر کہا ”آپ یہ کاغذات واپس کیوں لے جانا چاہتے ہیں؟ “<br />
میں نے کہا” آپ نے تصدیق کرنے سے انکار کر دیا ہے تو میں انہیں یہاںچھوڑ کر تو نہیں جا سکتا“<br />
وہ بولا ”لیکن ویزے کی شرائط کے مطابق اس ڈاکومنٹ کی تصدیق صرف پولیس کر سکتی ہے۔ ورنہ آپ کو ویزا نہیں ملے گا“<br />
”میں جانتا ہوں آفیسر لیکن آپ تصدیق کرنے سے انکار کر چکے ہیں “ میں نے قدرے جھنجھلا کر کہا۔<br />
میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔<br />
پولیس آفیسر جس کا نام رابرٹ تھا اسی معذرت خواہانہ لہجے میں بولا ” میں نے تصدیق سے انکار اس لیے کیا ہے کہ مجھے اُردو نہیں آتی ہے۔ لیکن اس مسئلے کا حل پولیس کی ذمہ داری ہے۔ آپ کو اگر بہت زیادہ جلدی نہیں ہے تو یہ کاغذات ہمیں دے جائیں۔ ہم کسی مستند اُردو مترجم کو بلوائیں گے۔ اس سے پڑھوانے کے بعد اس کی تصدیق کردیں گے“<br />
” اس میں کتنے دن لگیں گے؟ “میں نے دریافت کیا۔<br />
”زیادہ سے زیادہ دو دن ! اگر آج مترجم نہ مل سکا تو کل تک ضرور بندوبست ہو جائے گا۔ اس کی تصدیق کے بعد میںاپنے دستخط کرکے اورمہرلگاکر یہ کاغذات آپ کے گھرپہنچادوں گا “<br />
” اس کی ضرورت نہیں میں آپ کو فون نمبر دے دیتا ہوں۔ میرا دفتر یہاں قریب ہی ہے۔ کاغذات کی تصدیق ہو جائے تو مجھے فون کرلیں میں آ کر لے جاﺅں گا “ میں نے کہا<br />
رابرٹ نے کہا”بالکل ٹھیک ہے۔ کل تک آپ کو کاغذات مل جائیں گے۔ آپ کو جو دشواری ہوئی ہے اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں لیکن یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ پڑھے بغیر ہم کسی دستاویز کی تصدیق نہیںکر سکتے“<br />
دوسرے دن صبح دس بجے کے لگ بھگ رابرٹ کافون آ گیا۔ اس نے بتایاکہ میرے کاغذات کی تصدیق ہو چکی ہے میں جب چاہوں آ کر انہیں لے جا سکتا ہوں۔ ایک گھنٹے بعدمیں کاغذات اٹھانے پولیس اسٹیشن گیا تو ڈیوٹی پرموجود آفیسرنے اپنے انچارج کو بلا لیا۔ انچارج نے بھی مجھ سے معذرت کی کہ ہم کل کاغذات کی تصدیق نہ کر سکے ۔اس نے بھی وضاحت کی اس کی وجہ کیا تھی۔ مجھے علم تھا کہ مترجم ہر کام کی فیس لیتے ہیں۔ میں نے جب فیس کی بابت پوچھا تو انچارج نے کہا” ہاں مترجم کی فیس ہوتی ہے جو پولیس اپنے فنڈ سے ادا کرے گی ۔ کیونکہ اس کی ضرورت ہمیں تھی لہٰذا اس کی فیس بھی ہم ہی ادا کریں گے“<br />
میں شکریہ ادا کرکے جانے لگا تو انچارج نے ہولے سے کہا<br />
”Good Luck and have a safe trip of Mecca “<br />
میں نے اس کا دوبارہ شکریہ ادا کیا اور اس نظام کا مزید معترف ہو گیا جس میں سرکاری ملازم عوام کے آقا نہیں بلکہ ان کے خادم ہوتے ہیں۔<br />
ویزے کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ کسی امام مسجد سے سرٹیفیکیٹ لیا جائے کہ درخواست دہندہ مسلمان ہے۔ سڈنی کے تقریباً سبھی پاکستانی آئمہ مساجد سے میری جان پہچان ہے۔ چند ایک سے دوستی بھی ہے۔ ان میں سے ایک مولانا سے خاصی بے تکلفی ہے۔ حالانکہ مجھے ان سے اختلاف رائے بھی رہتاہے لیکن ہمارے باہمی تعلقات کبھی متاثر نہیں ہوئے۔ اختلاف کی وجہ کوئی ذاتی عناد نہیں ہے۔ دراصل مولانا صاحب کا ایک خاص مدرسے اور خاص سوچ سے تعلق ہے۔ وہ اپنی تقریروں اور پروگراموں میں اس خاص مدرسے کی سوچ کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پروگراموں میں اگر کوئی مختلف سوچ کا آدمی شرکت کرے تو اسے کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ مولانا کا سارا زور اپنے فرقے پر ہوتا ہے۔ میں نے انہیں کئی دفعہ سمجھانے کی کوشش کی کہ فرقہ بندی کے بجائے دین کی بنیادی تعلیمات اور حقوق وفرائض کو زیربحث رکھنا چاہیے۔ فرقہ ورانہ مسائل چھیڑ کر خواہ مخواہ نوجوانوں کا ذہن پراگندہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بہرحال مولانا صاحب اسی ڈگر پر قائم ہیں۔ میں دوستی اور محبت کے مارے گاہے گاہے ان کے پروگراموں میں شرکت کر لیتا ہوں لیکن پابندی سے نہیں جاتا ۔ ہم نے انہی مولانا صاحب سے رابطہ کیا اور سعودی سفارت خانے کے مطلوبہ سرٹیفیکیٹ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا ” یہ سرٹیفیکیٹ کوئی بھی امام مسجد دے سکتا ہے جو آپ کو جانتا ہو “<br />
”کیا آپ بھی یہ سرٹیفیکیٹ دینے کے مجاز ہیں؟ “ میں نے پوچھا<br />
کہنے لگے ”جی ہاں میں بھی یہ سرٹیفیکیٹ دے سکتا ہوں لیکن آپ اپنے علاقے کے مولانا سے ہی لے لیں تو بہتر ہے“<br />
”اس کی کوئی وجہ ہے؟ “ میں نے دریافت کیا۔دراصل ہمارے علاقے کی مسجد زیرِ مرمت اور بند تھی ۔<br />
مولانا صاحب فرمانے لگے ” اس کی وجہ یہ ہے میں اپنے گروپ کے لوگوں کو یہ سرٹیفیکیٹ دیتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو میرے پروگراموں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں اور مالی معاونت بھی کرتے ہیں۔ پھر بھی آپ کو اگر کوئی مسئلہ درپیش ۔۔۔۔۔۔۔؟ “<br />
”میں سمجھ گیا ہوں اور انشاءاللہ کوئی مسئلہ نہیں ہو گا “ میں نے مولانا کو جواب دیا اور فون بند کر دیا۔<br />
اب میں نے فون اٹھایا اور سعودی سفارت خانے سے ملایا۔سلام دعا کے بعد میں نے ان سے دریافت کیا کہ یہ مطلوبہ سرٹیفیکیٹ دینے کا مجاز کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کسی بھی اسلامک سینٹر، مسجد یا مصلیٰ کے امام سے یہ سرٹیفیکیٹ لے سکتے ہیں یا پھر آپ یہاں قونصلیٹ آفس آ جائیں۔ پاسپورٹ ساتھ لے آئیں۔ ہمارا عملہ یہ سرٹیفیکیٹ دے دے گا۔ آپ کے علاقے میں اگر مسجد نہیں ہے تو لکھ کر بھیج دیں ہم اس کے بغیر بھی ویز ا جاری کر دیں گے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔<br />
سعودی سفارت خانے نے جن لوگوں کی فہرست بھیجی اس میں ہمارے علاقے کی زیرِتعمیر مسجد کی انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے میرے دوست ضیاءالحق کا نام بھی شامل تھا ۔میں نے اُن سے رابطہ کیا تو انہوںنے بلاتاخیر سرٹیفیکیٹ بنا کر اور مہر لگا کر میرے حوالے کر دیا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>&nbsp;</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>http://aapkiawaz.dk/2018/02/%d9%86%db%8c%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%ab-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%92-%d8%b7%d8%a7%d8%b1%d9%82-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%b1%d8%b2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہمارا تو یہی گمان تھا  شاید خان صاحب عرصہ سے کرپٹ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ احتجاج، دھرنے، لانگ مارچ ، پارلیمنٹ میں گھیراﺅ اور اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا مقصد کچھ اور نہیں صرف اور صرف ملکی دولت لوٹنے والوں کا”احتساب“ ہے، مگر چاند میاں ہمارے اس موقف کے حامی نظر نہیں آتے۔کہتے ہیں خان صاحب ایک طرف میاں صاحب کی وزارتِ ”عظمیٰ“ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں تو دوسری جانب انہوں نے عدالتِ ”عظمیٰ“ میں بھی کیس دائر کر رکھا ہے۔ بیک وقت دونوں محاذوں پر میاں صاحب سے لڑائی کی بنیادی وجہ کچھ اور نہیں صرف ”عظمیٰ“ ہے جو ”وزارتِ عظمیٰ“ اور ”عدالتِ عظمیٰ“ دونوں میں مشترک ہے۔</title>
		<link>http://aapkiawaz.dk/2017/01/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%aa%d9%88-%db%8c%db%81%db%8c-%da%af%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%b4%d8%a7%db%8c%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8-%d8%b9%d8%b1%d8%b5/</link>
					<comments>http://aapkiawaz.dk/2017/01/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%aa%d9%88-%db%8c%db%81%db%8c-%da%af%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%b4%d8%a7%db%8c%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8-%d8%b9%d8%b1%d8%b5/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Raja Ghafoor Afzal]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 09 Jan 2017 19:45:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://aapkiawaz.dk/?p=3619</guid>

					<description><![CDATA[ماہرین علمِ نجوم دعویٰ کرتے ہیں کہ خان صاحب کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کے بجائے صرف ”شادی“ کی لکیر ہے، دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خان صاحب وزارتِ عظمیٰ کی امید دِل سے نکال...]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2017/01/Mr.-nJeem.jpg"><img decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-3620" src="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2017/01/Mr.-nJeem.jpg" alt="mr-njeem" width="149" height="149" /></a></p>
<p>ماہرین علمِ نجوم دعویٰ کرتے ہیں کہ خان صاحب کے ہاتھ میں وزارت عظمیٰ کے بجائے صرف ”شادی“ کی لکیر ہے، دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ خان صاحب وزارتِ عظمیٰ کی امید دِل سے نکال کر تیسری شادی کے لئے کسی ”عظمیٰ“ کی تلاش شروع کر دیں۔ نجومی حضرات کی نئے سال پر خان صاحب کے حوالے سے جو پیشگوئیاں میڈیا کی زینت بن چکی ہیں ،ان کا خلاصہ بھی کچھ یوں ہے کہ 2017ءمیں بھی خان صاحب کا وزیراعظم کی کرسی پر آنا ممکن نہیں البتہ ستاروں کی چال کے مطابق اس سال اُن کی تیسری شادی متوقع ہے۔ کچھ ایسی ہی پیشگوئی وہ حکومتی نمائندے بھی کر چکے ہیں جو خان صاحب کی نظر میں ”درباری“ کہلاتے ہیں۔ن لیگیوں کو عمران خان کی شادی کی فکر اس قدر ستانے لگی ہے کہ پچھلے دنوں وزیراعظم کے سیاسی مشیر انجینئر امیر مقام نے بھی یہ پیشگوئی کر ڈالی کہ خان صاحب وزارتِ عظمیٰ کی نہیں بلکہ جلد تیسری شادی کی شیروانی پہنیں گے۔ ن لیگ والے عمران خان کی تیسری شادی پر سب سے زیادہ خوش کیوں ہونگے؟ اس پر ایاز امیر صاحب ماضی میں بہت ہی دلچسپ تبصرہ کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ابھی اگر خان صاحب کی شادی ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی ن لیگ میں منائی جائے گی ، کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ خان صاحب کی شادی ہونے پر پانامہ لیکس کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا۔ بہرحال اگر خان صاحب شادی نہ بھی کریں تو کون سے وہ افسوس سے ہاتھ ملتے نظر آئیں گے۔ دو بار تو وہ دولہا بن ہی چکے ہیں، البتہ بات وزارت عظمیٰ کی ہو تو انہیں ایک موقع آئندہ عام انتخابات کی صورت میں ملتا نظر آ رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی کارڈ کس طرح کھیلتے ہیں۔ اگر 2013ءکی طرح آئندہ بھی وہ ہاتھ ملتے رہ گئے اور عدالتِ عظمیٰ کے پانامہ لیکس پر متوقع فیصلے سے بھی وہ نااُمید ہو گئے تو پھر شاید ”وزارتِ عظمیٰ“ اُن کے ہاتھ کبھی نہ آ سکے۔ ایسے میں خان صاحب کو تیسری بار دولہا بننے کے لئے کوئی ”عظمیٰ“ ہی تلاش کرنا پڑے گی۔ سیاستدانوں کی ایک سے زیادہ شادیاں عام بات ہے۔ جس طرح دیگر بہت سے اقدامات ”جمہوریت کا حسن“ ہیں ،اسی طرح سیاست دانوں کی ظاہری و خفیہ شادیاں بھی ”جمہوریت کا حسن و جمال“ ہوتی ہیں۔ خصوصاً دوسری یا تیسری شادی عموماً بالغ حق رائے دہی کا نتیجہ ہوتی ہے جو جمہوریت کی بنیاد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>http://aapkiawaz.dk/2017/01/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%aa%d9%88-%db%8c%db%81%db%8c-%da%af%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%b4%d8%a7%db%8c%d8%af-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d8%b5%d8%a7%d8%ad%d8%a8-%d8%b9%d8%b1%d8%b5/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملک  بھارت میں جب سے متعصب اورفرقہ پرست مودی سرکار برسراقتدارآئی ہے ،وہاں پربسنے والی اقلیتوں کاجینادوبھرہوگیاہے اوربھارتی سیکولرجمہوریت کابھانڈہ بیچ بازارمیں ہی نہیں بلکہ دنیابھرمیں اس کے چرچے شروع ہوگئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بھارت اندرون ملک میں بڑھتی ہوئی شورش اوربے چینی کوچھپانے کیلئے پاکستان کی سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کرکے اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے</title>
		<link>http://aapkiawaz.dk/2017/01/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%b5%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%b1%d9%82%db%81-%d9%be%d8%b1%d8%b3%d8%aa/</link>
					<comments>http://aapkiawaz.dk/2017/01/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%b5%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%b1%d9%82%db%81-%d9%be%d8%b1%d8%b3%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Raja Ghafoor Afzal]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Jan 2017 12:08:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://aapkiawaz.dk/?p=3607</guid>

					<description><![CDATA[،تاہم جس قدرانسانی حقوق کی پامالی ،لسانی ومذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیںشائدہی کسی اورملک میں اس کی نظیرملتی ہو۔ عمومی طورپربھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہدآزادی¿ کوہی تحریک کے طورپردیکھاجاتاہے تاہم ایسانہیں ہے۔بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ...]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2017/01/sami-ullah-malik.jpg"><img decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-3608" src="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2017/01/sami-ullah-malik.jpg" alt="sami-ullah-malik" width="300" height="300" srcset="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2017/01/sami-ullah-malik.jpg 300w, http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2017/01/sami-ullah-malik-150x150.jpg 150w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></a></p>
<p>،تاہم جس قدرانسانی حقوق کی پامالی ،لسانی ومذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیںشائدہی کسی اورملک میں اس کی نظیرملتی ہو۔ عمومی طورپربھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہدآزادی¿ کوہی تحریک کے طورپردیکھاجاتاہے تاہم ایسانہیں ہے۔بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پنجاب،تامل ناڈو،بہار، چھتیس گڑھ،اڑیسہ،ہماچل پردیش،مہاراشٹرسمیت شمال مشرق میں آسام،ناگالینڈ،منی پوراورترقی پورہ سمیت۷۶علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں،جن میں ۷۱بڑی اور۰۵ چھوٹی ہیں۔صرف آسام میں ۴۳علیحدگی پسندتنظیمیں کام کررہی ہیں۔۲۶۱/اضلاع پرعلیحدگی پسندوں کامکمل کنٹرول ہے۔علیحدگی کی تحریکیں بھارتی حکومت اورریاست کیلئے بہت بڑاچیلنج ہے۔ان تحریکوں نے بھارت کے دیگرحصوں آندھراپردیش اورمغربی بنگال پربھی اثرات مرتب کئے ہیں۔دوسری جانب بھارت ،لداخ اوراروناچل پردیش پرچین کے مو¿قف سے بھی انتہائی پریشان ہے۔<br />
علیحدگی کی ان تحریکوں نے بھارت کے ریاستی نظام کوبری طرح مفلوج کررکھاہے۔بھارتی فورسزنے علیحدگی پسندوں کی آوازکودبانے کیلئے ایک عرصے سے بدترین کالے قوانین کی آڑلے رکھی ہے۔ بھارت نے ۱۱ستمبر۸۵۹۱ءکوافسپا(Armed Forces Special Power Act) کے نام سے ایک قانون متعارف کروایاتھاجس کامقصدفوج کو خصوصی اختیارات دے کرملک بھرمیں جاری علیحدگی پسندتحریکوں کاراستہ روکناتھا۔اس قانون کے تحت ایک عام سپاہی کوبھی یہ اختیاردیاگیا کہ وہ کسی بھی شخص کوغدارقراردیکرجیل بھیج دے یاسرعام قتل بھی کردے۔اس اختیارکااستعمال کرتے ہوئے بھارتی فوج نے علیحدگی پسندوں کوچن چن کرنشانہ بنایا۔اس قانون کاسب سے پہلے اطلاق مقبوضہ کشمیر اور منی پورمیں کیاگیاجوبھارت کے نقطہ نظرسے بہت کامیاب رہا،تاہم اس کے باوجودبھی بھارت آزادی¿ پسند وں کومکمل طورپردبانے میں ناکام رہاہے البتہ وقتی طورپرشمال مشرق بھارت سمیت دیگردیگرریاستوں میں بھارتی فورسزان تحریکوں کوکچلتی رہی ہیں لیکن اس حقیقت کوجھٹلایانہیں جاسکتاکہ علیحدگی پسندبھارت کیلئے ایک مستقل سردردبنے ہوئے ہیں جس کی تائیدوقتاً فوقتاًبھارتی میڈیااورعالمی میڈیابھی کرتاہے۔<br />
جہاں تک علیحدگی کی بڑی تحریکوں کاتعلق ہے تواس فہرست میں بھارتی پنجاب میں چلنے والی سکھوں کی خالصتان تحریک کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔۰۷۹۱ءمیں سکھوں نے اپنے حقوق کیلئے اکالی دل کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ،ان کامطالبہ تھاکہ حکومت سکھوں کے ساتھ نارواسلوک کوختم کرکے انہیں تمام شعبوں میں ہندواکثریت کے مساوی حقوق دے لیکن بھارت سرکارنے ان مطالبات پرکان نہیں دھرااورنسلی ومذہبی تعصب کی بناءپرامتیازی سلوک اورزیادتیاں جاری رکھیں۔سکھوں نے ہندوحکمرانوں کے رویے سے مایوس ہوکر۰۸۹۱ءمیں باقاعدہ مسلح جدوجہدکاآغازکیا ۔بھارتی حکومت نے سکھوں کی اس تحریک کوکچلنے کیلئے ریاستی طاقت کابھرپوراستعمال کیا لیکن خالصتان تحریک کوپھربھی کچلانہیں جاسکا۔آخرکار۴۸۹۱ءمیں بھارتی فوج نے امرتسرمیں سکھوں کے روحانی مرکزگولڈن ٹیمپل پرچڑھائی کردی ۔ ان کی مذہبی قیادت کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ قتل وغارت کابازاربھی گرم کیاگیا۔<br />
اس اثناءمیں بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی کوان کے دوسکھ محافظوں نے گولی مار کرقتل کردیاجس کے جواب میںبھارت کے کئی شہروں میں متعصب ہندودرندوں نے عام سکھ شہریوں پرپٹرول چھڑک کرسرعام زندہ جلا دیااورحکومت کے بے حسی سے صورتحال مزیدخراب ہوگئی۔ادھربھارتی فورسزنے بڑاآپریشن کرکے اکالی دل وخالصتان تحریک کی قیادت کے خلاف طاقت کابھرپوراستعمال کرتے ہوئے تحریک کودبادیا۔۰۹۹۱ءتک یہ تحریک بظاہر اپنی فعالیت کھوچکی تھی تاہم خالصتان کانظریہ نہ صرف پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اورزندہ ہوکرسامنے آگیاہے بلکہ اپنے حقوق کی خاطر سکھوں کے کئی گروہ بھارت کے خلاف جدوجہدکررہے ہیں،جن میں ببرخالصہ انٹرنیشنل،خالصتان زندہ بادفورس،خالصتان کمانڈوفورس،بھنڈرانوالہ ٹائیگرفورس،خالصتان لبریشن فرنٹ اورخالصتان نیشنل آرمی سرفہرست ہیں۔<br />
دوسری اہم تحریک تامل ناڈوبھی بھارت میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکی ہے۔یہ ابتداءمیں ایک لسانی تحریک تھی بعد میں قوت پاکرعلیحدگی کی جانب مائل ہوگئی،اگرچہ تامل بھی ہندو مذہب کے ماننے والے ہیں تاہم یہ تاملی زبان کوہندی سے زیادہ معتبرسمجھتے ہیں ۔ان کاکہناہے کہ حکومت ہم پرہندی مسلط کرکے تاملوں کوغلام بناناچاہتی ہے جوقطعاً منظورنہیں۔ یہ قضیہ اولاً ۷۴۹۱ءمیں سامنے آیاجب کانگرس کی صوبائی حکومت نے اسکولوں میں جہاں تاملی بولنے والوں کی اکثریت تھی،ہندی کولازمی تعلیم کادرجہ دیاجس پرتاملوں نے اپنے<br />
بچو ں کوہندی پڑھانے سے انکارکردیا۔تقسیم ہند کے بعد۰۵۹۱ءکے عشرے میں تاملوں کااحتجاج وسعت اختیارکرگیاجس پرحکومت نے تشددکاراستہ اپناکران کی تحریک کوکچلنے کی کوششیں شروع کردیں۔تاملوں کے ساتھ انسانیت سوزمظالم کے ردّ ِ عمل میں یہ لسانی تحریک ۸۶۹۱ءمیں باقاعدہ بھارت سے علیحدگی کی تحریک میں تبدیل ہوگئیاور اب”تامل نیشنل ریٹریول ٹروپس“(Tamil National Retrieval Troops)کے نام سے بھارت سے مکمل علیحدگی کیلئے مسلح جدوجہدکررہے ہیں۔ بھارت اوراس سے ملحق تامل زبان بولنے والے علاقوں میں اب یہ تحریک شدومدکے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہے۔<br />
بھارت کے نقشے پرنظرڈالیں توشمال مشرق کی جانب سات ریاستوں پرمشتمل پٹی دکھائی دیتی ہے جسے تاریخی طورپر ”سیون سسٹر“یعنی(سات بہنیں)بھی کہاجاتاہے جن میں آسام،ناگالینڈ،منی پور،تری پورہ،میزورام،اروناچل پردیش اورمینالیہ شامل ہیں۔ان ریاستوں کوبنگلہ دیش اوربھوٹان نے ڈھانپ رکھاہے۔ یہ ریاستیں بھارتی ریاست مغربی بنگال کی ایک پٹی کے ذریعے بقیہ بھارت سے منسلک ہیں۔یہ علیحدگی پسندگروہوں کامرکزتسلیم کی جاتی ہیںجن میں آسام ،ناگالینڈ،منی پوراورتری پورہ سب سے زیادہ حساس ہیں۔صرف آسام میں ۴۳علیحدگی پسندتنظیمیں سرگرم ہیں جن میں یونائیٹڈلبریشن فرنٹ ،نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ۔کے ماتاپورلبریشن آرگنایزیشن،برچھاکمانڈوفورس،یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا،مسلم ٹائیگرز،آدم سینا،حرکت المجاہدینحرلت الجہاد،گورکھاٹائیگرفورس،پیپلزیونائیٹڈلبریشن فرنٹ سرفہرست ہیں۔<br />
دوسری جانب ایسی ہی تحریکیں ناگالینڈ،منی پوراورتری پورہ میں بھی جاری ہیں۔ناگالینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل سب سے زیادہ مو¿ثرہے جبکہ منی پورمیں پیپلزلبریشن آرمی،منی پورلبریشن ٹائیگرزفورس،نیشنل ایسٹ مائنارٹی فرنٹ،کوکی نیشنل آرمی اورکوکی ڈیفنس آرمی جدوجہد میں مصروف ہیں۔اسی طرح تری پورہ آرمڈٹرائبل فورس،تری پورمکتی کمانڈوزاور بنگالی رجمنٹ جدوجہدکررہی ہیں جبکہ ریاست میزورام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ علیحدگی کی تحریک آگے بڑھارہی ہے۔<br />
دراصل بھارت کثیرالثقافتی اورکثیرالسانی ومذہبی ملک ہے،اگرچہ وہ دعویٰ جمہوریت اورسیکولرکاکرتاہے تاہم اس کے باوجودبھی وہاں کی اقلیتیں سب سے زیادہ مظلوم ہیں۔دیگر مذاہب سے صرفِ نظرکرکے صرف ہندومت ہی کودیکھاجائے تومعلوم ہوگاکہ بھارت میں ہندوو¿ں کی نچلی ذاتیں بھی انتہائی غیرانسانی سلوک کاشکارہیں اگرچہ اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کے حقوق کیلئے آوازبلندکرتی رہی ہیں تاہم اس کے باوجودبھی ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اچھوتوں نے بھی”دی دلت فریڈم نیٹ ورک“(The Dalit Freedom Network)کے نام سے آزدی¿ کی تحریک شروع کررکھی ہے۔<br />
اس تناظرمیں عالمی میڈیاکابھی مانناہے کہ بھارت عسکریت پسندی کی وجہ سے اس وقت سب سے زیادہ ناپسندیدہ اورغیرمحفوظ ملک بن گیاہے جہاں ۷۱۳عسکری کیمپ کام کررہے ہیں۔یہ گویاعراق وشام کے بعدبم دہماکوں اورہلاکتوں کے لحاظ سے سب سے بڑاملک بن گیاہے۔عالمی میڈیاپرشائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق بھارت میں ماو¿نواز باغیوں ،تامل علیحدگی پسندوں،خالصہ تحریک اورکشمیری مجاہدین سمیت آزادی کی دیگرتحریکیں عروج پرہیںجس کے سبب علیحدگی پسندوں کی قوت میں بتدریج اضافے کے بعد بھارت کے ۵۲۰۲ءتک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ان حالات میں بھارت کیلئے اندرونی خلفشارسب سے بڑاخطرہ ہے۔دوسری جانب ہندوانتہاءپسندتنظیموں نے بھی بھارت میں تربیتی کیمپ کھول رکھے ہیں۔شیوسینا،راشٹریہ سیوک سنگھ اوربجرنگ دل کے مظالم اوراقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سی ہے حریت اورعلیحدگی پسندی کوتقویت ملی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بھارت کی مقبوضہ اورحقوق سے محروم ریاستوں میں مظلوم اقلیتوں نے علیحدگی اورآزادی کی راہ چن کرمنزل کی جانب سفرجاری وساری رکھاہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>http://aapkiawaz.dk/2017/01/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%aa%d8%b9%d8%b5%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%81%d8%b1%d9%82%db%81-%d9%be%d8%b1%d8%b3%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ادارہ آپکی آواز ۔۔۔ آپ کیلئے ہمارے میڈیا کے دوستوں کا پورا کالم پڑھنے کیلئے فوٹو پر کلک کریں۔شکریہ</title>
		<link>http://aapkiawaz.dk/2016/09/3496/</link>
					<comments>http://aapkiawaz.dk/2016/09/3496/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Raja Ghafoor Afzal]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 02 Sep 2016 15:40:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://aapkiawaz.dk/?p=3496</guid>

					<description><![CDATA[لعنت اور ذلت کے تبرّے! ہم سب کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس اضافے کیلئے ہمیں کچھ کرتے بھی رہنا چاہئے۔اگر ایک شخص جس کے ہاتھ پیر سلامت ہوں،وہ جوان ہواوراس کی...]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2016/09/samiullah_malik.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-3497" src="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2016/09/samiullah_malik.jpg" alt="samiullah_malik" width="120" height="130" /></a></p>
<p><strong>لعنت اور ذلت کے تبرّے</strong><strong>!</strong></p>
<p>ہم سب کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس اضافے کیلئے ہمیں کچھ کرتے بھی رہنا چاہئے۔اگر ایک شخص جس کے ہاتھ پیر سلامت ہوں،وہ جوان ہواوراس کی ہڈیاں مضبوط ہوں،اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا تو واجب ہے لیکن اگر کوئی اجنبی بندوق کی نوک پر اس کے سارے خاندان سے ناک کی لکیریں نکلوا رہا ہو اور وہ شخص کہے کہ اللہ کا شکر ہے ،عزت کی زندگی بسر ہو رہی ہے تواس کی صحت،اس کی جوانی، اس کی عزت کی زندگی کے آگے بہت بڑا سوالیہ نشان نظر آنے لگتا ہے۔ہم پاکستانی گزشتہ برسہا برس سے کچھ اسی قسم کی عزت کی زندگی بسرکررہے ہیں ۔ہماری دونوں آنکھیں سلامت ہیں مگرہربارکوئی کاندھا ہماراآگے کرتاہے اور حکم ملتاہے کہ اس پرہاتھ رکھ کرسڑک پارکرو،ہماری دونوں ٹانگوں میں دم ہے لیکن ہمارے ہاتھ میں بیساکھی پکڑادی جاتی ہے،ہم عاقل و بالغ ہیں لیکن ہماراحقِ رائے دہی کوئی اوراستعمال کرجاتا ہے ۔</p>
<p>ہم خودکوانسان کہلاتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ ڈھورڈنگروں والاسلوک ہوتا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں یہ منظر آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر چالیس پچاس بھینسیں جن کاجثہ اورسینگ دیکھ کرڈرلگتاہے،خراماں خراماں چلی جارہی ہوتی ہیں ۔انہیں ایک بڑی بڑی مونچھوں والاگجّرصرف درخت کی ایک شاخ سے جدھرچاہتاہے،ادھرہانک کرلیجاتاہے۔یہی حال ہمارابھی ہے۔ہمیں اپنے جثوں اور سینگوں کے نوکدارہونے کاادراک ہی نہیں ہے چنانچہ جوگجرہم سے جیسا سلوک کرناچاہتا ہے،ویساکرتاہے۔وہ ہمیں جن راستوں پرچلنے کیلئے کہتاہے ہم گروہ در گروہ ان راستوں پرچلنا شروع کر دیتے ہیں،بھینس کے تھنوں کے پاس کٹاچھوڑا جاتاہے اورجب وہ اپنے بچے کیلئے دودھ اتارتی ہے توگجر اس کٹے کوپرے کرکے اپنابرتن دودھ سے بھرلیتاہے اوربازارمیں بیچ دیتا ہے۔</p>
<p>ہمارے بچوں کے حصے کادودھ بھی ہمارے بچوں تک نہیں پہنچتا۔بھینس توپھر بھی کبھی کبھار کسی کوسینگ مارلیتی ہے،ہم اشرف المخلوقات ہیں،ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہمیں توسیدھاراستہ دکھانے کیلئے درخت کی ایک شاخ ہی کافی ہے۔ جانوروں کے ریوڑمیں جب کسی جانورکاسودہ ہوجاتاہے تواسے ریوڑسے الگ کردیاجاتاہے۔ہمارے درمیان بھی کچھ جانورایسے ہیں جن کاسودہ ہوچکاہے۔ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں اوران کے جسموں پرقیمتی پوشاکیں ہیں کہ اب یہ آوارہ نہیں،ان کی حیثیت بڑے بڑے ایوانوں میں پالتوکی ہے۔ یہ کان پرقلم دھرے گلی گلی آوازلگاتے ہیں،قصیدہ لکھوالو،ہجولکھوالو۔ ان انسان نماجانوروں کے غول کے غول اپنے جسموں پراپنی قیمتوں کے ٹیگ لگائے نیلام گھر کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان سے پارٹی بنوالو،پارٹی بدلوالو،بندے چکوالو، بندے مروالو، ہرکام کی قیمت مقرر ہے۔</p>
<p>ان میں سے کچھ نے مونچھیں رکھی ہوئی ہیں،کاندھے پر&#8221;پرنا&#8221;ڈال رکھا ہے۔یہ مٹھی میں سگر یٹ دبائے دفتروں، تھانوں،عدالتوں،اخباروں، اسمبلیوں اور بڑے بڑے ایوان میں نظر آتے ہیں،قوم کی موت ان کی حیات ہے ۔انہیں یہ بھی احساس نہیں کہ اگران کی آئندہ نسل میں خدانخواستہ کوئی بے غیرت پیدانہ ہواتووہ بیچارہ بھوکوں مرجائے گا۔بے غیرتی کارزق نہ ملنے کی وجہ سے اس کی جو حالت ہو گی انہیں اس کی بھی فکر نہیں۔انہیں صرف آج کی فکر ہے اور صرف اپنی فکر ہے ۔</p>
<p>ایک طبقہ ہم&#8221;انسانوں&#8221;کے درمیان اوربھی ہے اس نے چپ کاروزہ رکھاہوا ہے،اس کے افرادصرف اپنی پیدائش کے وقت روکراحتجاج کرتےہیں۔یہ ان کی &#8221;سحری&#8221;ہے&#8221;افطاری&#8221;کی نوبت ان کے آخری سانس تک نہیں آتی۔یہ نہ کسی سے اختلاف کرتے ہیں نہ اتفاق کرتے ہیں،ان کےسامنے ملک وقوم پرآسمان ٹوٹ پڑے،لوگوں کی دلدوزچیخوں سے کلیجے شق ہوجائیں،ان کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ان کاایک مخصوص جملہ ہے&#8221;بس جی دعاکریں جوہورہاہے ملک و قوم کے حق میں بہترہو&#8221;۔ان بے حس چہروں پرغیرجانبداری کاایک ملکوتی سا اطمینان ہمہ وقت طاری رہتاہے ۔یہ کچھ بھی دیکھیں،کچھ بھی سنیں،ان کے ذہنوں میں کوئی سوال نہیں اٹھتا،خصوصاًشعروادب سے وابستہ کچھ لوگوں میں تو جانبداری گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔</p>
<p>حبیب جالب کوشاعر اس لئے نہیں ماناگیا کہ وہ اس گناہِ کبیرہ کاباربارمرتکب ہوتا تھا،چنانچہ خودادیب اسے سنگسارکرتے رہے ۔ادیب کاکام صرف داخلی گتھیاں سلجھاناہے،خارج سے اسے کوئی تعلق نہیں ہوناچاہئے۔سوداکے بالیں پہ شور قیامت ہواتو خدام ادب بولے&#8221;یہ شورروکو،صاحب کی ابھی آنکھ لگی ہے ۔ہمارا منشور</p>
<p>جی چاہتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن</p>
<p>بیٹھے  رہیں  تصور ِ  جاناں  کئے  ہوئے</p>
<p>والے شعر میں پوری طرح آگیا ہے چاہے&#8221;مراقبے&#8221;کی اس کیفیت میں&#8221;جاناں&#8221;اپنے آشنا کے ساتھ فرارہوجائے یاکوئی غنڈہ اسے ٹیکسی میں ڈال کرلے جائے۔ کچھ ایسا ہی حال مجھے اپنے موجودہ حکمرانوں کے مزاج میں بھی نظر آرہا ہے۔</p>
<p>ابھی اطلاع ملی ہے کہ بھارتی وزیرداخلہ کی موجودگی میں وادی ایک بارانسانی لہوسے اس وقت سرخ ہوئی جب پلوامہ کے پرچھوعلاقے میں فورسز اور پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کوقابوکرنے کیلئے ان پرجوابی پتھراؤکے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج ،آنسوگیس اورپیلٹ بندوقوں کی شیلنگ کادہانہ کھول دیا اور اسی پر اکتفانہیں کیابلکہ پولیس نے مشتعل ہجوم کومنتشر کرنے کے لئے ٹائر گیس شلنگ ،ربرگولیوں،پلیٹ گن اورمرچ گیس کے گولے داغے جس کے بعد طرفین کے مابین شدیدجھڑپیں ہوئیں جس کے باعث پوراعلاقہ اشک آورگولوں سے لرزاٹھا اورہرطرف دھواں ہی دھواں پھیل گیاجس کے ساتھ ہی۴۷دنوں میں فورسزکی کاروائی میں جاں بحق ہونے والوں کی مصدقہ تعداد۶۸اورزخمیوں کی تعداد۱۵۰  تک پہنچ گئی جن میں سے نصف درجن مظاہرین کی حالات نازک بتائی جاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ زخمیوں کو اسپتال بھی پہنچانے کی اجازت نہیں دی گئی اورپلوامہ اسپتال تک پہنچانے کے تمام راستوں کوبندکردیاگیاہے۔</p>
<p>پچھلے سات ہفتوں سے میراکشمیرلہولہوہے۔بھارتی درندے جس بہیمانہ اندازمیں معصوم اوربے گناہ کشمیریوں پرظلم وستم کررہاہے،عالمی ضمیرکی طرف سے ابھی وہ ردّ ِعمل دیکھنے میں نہیں آرہاجس کی توقع ہے۔ امریکااورمغربی ملکوں کی جمہوریت ،قانون پسندی،بنیادی حقوق کااحترام،عدل وانصاف اورانسان دوستی صرف اپنے ملک کے شہریوں کیلئے وقف ہے۔مسلمانوں کیلئے اس کے پیمانے مختلف ہیں اورمحمد عربیۖ کاکلمہ پڑھنے والوں کیلئے اس کاقانون بالکل جداہے اور پاکستانیوں اوربالخصوص کشمیریوں کیلئے توان کے ضابطہ ہائے انصاف تو بالکل مختلف ہیں۔امریکیوں اورمغربی ممالک کے پالتوکتوں اوربلیوں کوکانٹا بھی چبھ جائے توان کی انصاف کی دیوی کی آنکھوں میں خون اترآتاہے اوروہ کوبراسانپ کی طرح پھن پھیلا ئے ڈنک مارے سے گریز نہیں کرتے۔</p>
<p>عراق میں پندرہ لاکھ مسلمانوں کا خون پی گئے،افغانستان میں تو کوئی گنتی ہے نہ شمار۔اقوام متحدہ میں امریکا سمیت تمام مغربی ممالک نے کشمیر یوں کوجس حق خوداردایت کی ضمانت دی تھی،اس کے حصول کیلئے کشمیری اب تک ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں اور مسلسل اپنے اس حق کیلئے اب میدانِ عمل میں موجود ہیں۔کیا آج تک کسی امریکی یاکسی مغربی حکومتی اہلکار نے ان بھیانک جرائم کی طرف توجہ دی؟کیاامریکا کے ہاتھوں مارے جانے والے مشرق کے افتادگان خاک کو وہ حشرات الارض سے بھی حقیرجانتے ہیں؟کیاامریکااورمغربی ممالک کی انصاف کی منڈی میں ان کی بھی کوئی قیمت یابولی لگائی گئی ہے؟دراصل افغانستان میں ممکنہ شکست فاش اوررسوائی کابدلہ لینے اورخطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوروکنے کیلئے بھارتی درندوں کی انسانیت سوزظلم وستم کے سامنے انہوں نے اپنی قومی غیرت اورحمیت کوگہری نیندسلادیاہے لیکن اب تونوشتۂ دیوارسامنے دیوارپرلکھاہے کہ اس ظلم کے بعداب کشمیرسے بھارت کواوراس خطے سے امریکااوراس کے تمام اتحادیوں کوعزت سے واپسی کاراستہ نہیں مل سکے گا۔</p>
<p>جب بھی کشمیرمیں بھارت کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کے سامنے بے بس اور مجبورہوتاہے توفوری طورپرکشمیرکے حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے اپنے پالتو ایجنٹوں کوپاکستان میں اپنی کاروائیوں میں تیزی لانے کااشارہ کردیتاہے جس کے جواب میں لسانی جماعت کابھتہ خور،کراچی میں ہزاروں افرادکاقاتل اور&#8221;را&#8221; کا مستندایجنٹ الطاف حسین بے لگام ہوکرانتہائی بے شرمی کے ساتھ پاکستان کے خلاف کھل کرہرزہ سرائی کررہاہے اوراب بھارتی ہندودرندوں، اسرائیل،امریکا اورافغانستان کومددکیلئے پکاررہاہے جبکہ الطاف کے ٹارگٹ کلنگ گروہوں کے اس اذیت کے گھنے جنگلوں میں شکارہونے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جس کی بناءپرتاریخ بھی اس خونخوار،بدکردار،بے غیرت الطاف پرہمیشہ لعنت اورذلت کے تبرے بھیجتی رہے گی لیکن پاکستانی قوم موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اب تک اس جماعت کے افرادجواب ایک نئے ڈرامے کے ساتھ پاکستان میں صفائیاں پیش کررہی ہے،اس کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ایم کیوایم پرمکمل پابندی اوراس کی جماعت کے تمام رہنماؤں کو غداری کے جرم میں کیوں گرفتارنہیں کیاگیا؟ یادرکھیں کہ موجودہ حکومت کی اس معاملے پراب تک کی مجرمانہ خاموشی شکوک وشبہات کوتقویت پہنچارہی ہے اوریہی خاموشی ان کوبھی مجرموں کے کٹہرے میں ضرورلاکھڑاکرے گی اوران کابھی انجام بدوہی ہوگاجس کی مستحق ایم کیوایم ہے!</p>
<p>رہے نام میرے رب کا جو جبار بھی ہے اور قہار بھی!</p>
<p>حیرت نہ کر بدن کو مرے چور دیکھ کر</p>
<p>ان رفعتوں کو دیکھ جہاں سے گرا تھا میں</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>http://aapkiawaz.dk/2016/09/3496/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ماں کامان ۔۔۔۔پاکستان جس دن معرض وجودمیں آیا اس روز سے پاکستان کے فطری دشمن اس کے تعاقب میں ہیں ، انڈیا سمیت امریکہ اوراسرائیل بھی اسلام کو اپنے اپنے وجود کیلئے خطرہ جبکہ پاکستان کواسلام کاقلعہ سمجھتا ہے۔راقم کاایمان ہے اس کائنات میں اسلام،مدینہ اورپاکستان کاظہور ایک ساتھ ہوا تھا ،تاریخوں کافرق کوئی معنی نہیں رکھتا۔مدینہ جیسی انقلابی اسلامی ریاست کے قیام اوراستحکام میں محمد صلی اللہ وعلیہ وسلم اورعلی رضی اللہ عنہ کاکردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے ۔ تفصیل کیلئے فوٹو پرکلک</title>
		<link>http://aapkiawaz.dk/2016/09/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%b3-%d8%af%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%b6-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%85/</link>
					<comments>http://aapkiawaz.dk/2016/09/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%b3-%d8%af%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%b6-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Raja Ghafoor Afzal]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 02 Sep 2016 15:21:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://aapkiawaz.dk/?p=3491</guid>

					<description><![CDATA[جس دن مدینہ کی صورت میں پہلی اسلامی ریاست کاسورج پوری آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوا تھا اس پل ساتویں آسمان پرپاکستان کے قیام اوربانیان کیلئے قائدین کے انتخاب کافیصلہ بھی ہوگیا تھا ۔اِسم &#8221;محمدعلی ؒ&#8221; پرغورکریں اورکرتے جائیں...]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2016/09/MOHAMMAD-Nasir-Iqbal-Khan-....jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-3492" src="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2016/09/MOHAMMAD-Nasir-Iqbal-Khan-....jpg" alt="MOHAMMAD Nasir Iqbal Khan ..." width="300" height="300" srcset="http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2016/09/MOHAMMAD-Nasir-Iqbal-Khan-....jpg 300w, http://aapkiawaz.dk/wp-content/uploads/2016/09/MOHAMMAD-Nasir-Iqbal-Khan-...-150x150.jpg 150w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px" /></a></p>
<p>جس دن مدینہ کی صورت میں پہلی اسلامی ریاست کاسورج پوری آب وتاب کے ساتھ طلوع ہوا تھا اس پل ساتویں آسمان پرپاکستان کے قیام اوربانیان کیلئے قائدین کے انتخاب کافیصلہ بھی ہوگیا تھا ۔اِسم &#8221;محمدعلی ؒ&#8221; پرغورکریں اورکرتے جائیں توسب کچھ سمجھ آجائے گا۔جواسلام کادشمن ہے وہ پاکستان کادوست نہیں ہوسکتا۔اسلام ،انسانیت اورامن دشمن شیطانی تکون خدانخواستہ اسلام پرغلبہ پانے کیلئے پاکستان کوکمزورکرنے کے درپے ہے،اس کیلئے انہیں بعض غداروں کی مددبھی حاصل ہے اوروہ ہرقسم کاہتھکنڈا استعمال کررہے ہیں۔پاکستان کوقرض کے بوجھ تلے دبانا اوراس کی معیشت کومفلوج بنانابھی اس کی ایک کڑی ہے۔پاکستان کے اندرنڈر،باضمیر،ایمانداراورانصاف پسندقیادت کوابھرنے نہ دینا بھی اس شیطانی تکون کے مفاد میں ہے ۔جس وقت نریندرمودی وزیراعظم منتخب ہوا تو ان دنوںمیں نے لکھا تھا کہ یہ بھارت کولے ڈوبے گااورنادان دوست کی طرح نریندرمودی نے بھارت کابیڑاغرق کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی،اس نے ہندوازم کے نتیجہ میں مضطرب سنگھ قوم کوبھی اپنے آزادوطن کیلئے جگادیا ہے جبکہ جموں وکشمیر میں بھارتی بندوق اوربارود سے نبردآزما کفن پوش نوجوان بھی آزادی مانگ رہے ہیں۔پاکستان آسانی سے اپنے اندرونی مسائل سمیٹ سکتا ہے جبکہ بھارت حجم میں بڑاہے تویقینااسے زخم بھی بڑا لگے گا ۔لندن میں بیٹھے بھارت کے دوچاربھگت پاکستان کاکچھ نہیں بگاڑسکتے ۔پاکستان کے کچھ غدار جوسات سمندرپاربیٹھے ہیں انہیںایکسپوزکرنے کاکریڈٹ بھی نریندرمودی کوجاتا ہے۔نریندرمودی نے بلوچستان بارے اپناخبث باطن ظاہر کرکے غیوربلوچ قوم کاضمیر جھنجھوڑدیا اوروہ پاکستان کے ساتھ اظہارمحبت اوراظہاریکجہتی کیلئے شاہراہوں پرنکل آئے ہیں۔پاکستانیوں کواندرپاکستانیت بیدارکرنے کاسہرابھی نریندرمودی اوراس کے لندن میں مقیم حامیوں کے سر ہے ۔بھارت ہمیں نصیحت کرنے کی بجائے اپنے اندرونی مسائل کاحل تلا ش کرے۔جس طرح ہمارے کوئی عزیزبیماریازخمی ہوجائے توہمارے اندراس کیلئے زیادہ پیارامڈآتا ہے بالکل اس طرح اگرکوئی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرے توپاکستانیوں کے اندرزوروشور سے پاکستانیت امڈآتی ہے۔پاکستان کے عام لوگ ضمیرفروش اوروطن فروش نہیں بلکہ سرفروش ہیں اور1965ءمیں بھارت عام پاکستانیوں کی جرا¿ت اورشجاعت کے مظاہرے دیکھ چکا ہے ۔ بلوچ عوام سیاستدانوں سے گلے شکوے کرتے ہیں مگر انہیں پاک فوج پربھرپوراعتماد ہے ۔قومی سلامتی کے مشیرجنرل (ر)ناصرخان جنجوعہ ناراض بلوچ نوجوانوں کوپہاڑوں سے اتارنے اورپھر سے قومی دھارے میں متحرک کرنے میں کامیاب رہے،ان کے بعدوہاں آنیوالے کورکمانڈر اپنے پیشروجنرل (ر)ناصرخان جنجوعہ کے ادھورے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کوشاں ہیں۔اگربلوچ عوام میں کسی حدتک احساس محرومی ہے تو اس کے ڈانڈے وہاں کے سیاستدانوں سے جاملتے ہیںبدقسمتی سے پنجاب کی سیاسی قیادت نے بھی ان کی محرومیوں کامداواکرنے کیلئے کوئی سنجیدہ کردارادانہیں کیا تاہم امید ہے پاک فوج بلوچستان اورکراچی سمیت چاروں صوبوں میں سیاسی قیادت کا&#8221; گند&#8221;صاف کرنے میں کامیاب رہے گی ۔پاکستان حالت جنگ میں ہے اورجوریاست حالت جنگ میں ہو وہاں فوجی قیادت کاتسلسل ناگزیر ہے ۔پاکستان کے حامی جنرل راحیل شریف کی ایکسٹینشن اوران کاکرپشن کیخلاف بھرپور&#8221;ایکشن&#8221; دیکھنے کے خواہاں ہیں ۔اگرانہوں نے بھی کچھ نہ کیا توپھرشاید عوام آئندہ کسی سے امیدیں وابستہ نہ کریں ۔جنرل راحیل شریف کی ایکسٹینشن سے یادآیا جمہوریت اورآزادی اظہار کادم بھرنے والی حکومت نے مووآن پاکستان کے مرکزی چیئرمین میاںمحمدکامران کوبدترین انتقام کانشانہ بنایا اورانہیں توڑنے کیلئے پنجاب کے کئی تھانوں میں بندکیا گیا تاہم پچھلے دنوں نہیں ضمانت پررہاکردیا گیا ہے ۔حکومت کے انتقام کی بھٹی نے مووآن پاکستان کے مرکزی چیئرمین میاں محمدکامران کوکندن بنادیا ۔پاکستان کے محب فطری طورپرپاک فوج سے والہانہ محبت کرتے ہیں ۔جنرل راحیل شریف کی ایکسٹینشن کے حق میں توپارلیمنٹ کے اندرسے بھی تواناآوازیں سنی گئی ہیں مگر حکومت نے کسی پارلیمنٹرین کوگرفتار نہیں کیا جبکہ میاں محمدکامران کیخلاف اسلام آباد،راولپنڈی ،لاہوراورفیصل آباد میں چارمقدمات درج کئے گئے کیونکہ وہ معاشرے کے ایک عام مگرنیک نام فرد ہیں ۔پاکستان کیلئے میاں محمدکامران جیسی شخصیات کادم غنیمت ہے،حکومت کاانتقامی اقدام &#8221;مووآن پاکستان&#8221;کیلئے استحکام بخش رہا ۔<br />
دشمن ملک کی گھناﺅنی سازش اورپاکستان کی سیاسی اشرافیہ کی اقتدارپرستی کے نتیجہ میں پاکستان اورمشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک بہت بڑاسانحہ تھی مگرایک مفروراوردماغی طورپرمعذور شخص کی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی اس سے بھی بڑاالمیہ ہے ،تاہم یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے لیکن اس شرمیں ایک خیر کاپہلوبھی ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی &#8221;مسلم لیگ &#8221;کے دوراقتدارمیں کی گئی جبکہ نام نہادقائداعظم ثانی بھوشن یادیو کے ہوشربا انکشافات والے معاملے کی طرح الطاف کے بھاشن بھی پر خاموش ہیں جبکہ پنجاب اورمرکزکے بے تاج بادشاہ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے دفاتر جوناجائزتعمیرات کے زمرے میں آتے ہیں ،انہیں رینجرزکی طرف سے مسمارکئے جانے پربرہم ہورہے ہیں،ان کابرہم ہونامتحدہ قومی موومنٹ کی مفرورقیادت کیلئے مرہم نہیں بن سکتا۔پاکستان کی سا لمیت پرکاری ضرب لگانے اورقومی حمیت پرشب خون مارنے والے ابھی تک سکون میں جبکہ پاکستانیوں کی آنکھوں میں خون کے آنسوہیں ۔یہ سیاست نہیں ریاست بچانے کاوقت ہے ۔بھارت کی طرف سے اس قسم کے&#8221; جملے اورحملے&#8221; منتشر پاکستانیوں کوپھر سے متحد اورمنظم کر دیتے ہیں ۔نریندرمودی کے اقتدارمیں آنے سے پاکستان کے اندرونی دشمن اورا ن کے بیرونی دشمنوں سے رابطے پوری طرح بے نقاب ہوگئے ہیں۔ نریندرمودی کی غیرضرروی&#8221; تقریر&#8221; نے پاکستان کی تقدیرکومزید بگاڑسے بچالیا اورپاکستان کی دفاعی قیادت نے کمرکس لی ۔جنرل راحیل شریف کاحالیہ بیان &#8221;مودی ہو&#8221;را&#8221;یاکوئی اوردشمن کی ہرچال کوسمجھ چکے ہیں&#8221;خوش آئند ہے۔<br />
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندوں کوسترماﺅں سے زیادہ محبت کرتا ہوں ،یعنی اللہ تعالیٰ بھی ماں کی ممتا ،عظمت اورمحبت کاشاہد ہے ورنہ ماں کی بجائے باپ کی محبت وشفقت کاتذکرہ بھی آسکتا تھا ،بلاشبہ باپ کی بچوں سے بے پناہ محبت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن ماں واقعی سراپامحبت ہے ۔بچے نافرمان بھی ہوں توماں ان پرقربان ہوجاتی ہے ۔ماں کی شان میں بہت کچھ لکھا گیاہے اورصبح قیامت تک لکھاجاتا رہے گا۔جوانسان اپنی ماں اوراپنے باپ کامان رکھتا ہے وہ کبھی نامراداوررسوانہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدفرقان حمید کی متعددآیات میں ہم انسانوں کو ماں باپ سے محبت اورعقیدت کی تعلیم وترغیب جبکہ ایساکرنے کی صورت میں انعام کی نویدبھی دی ہے جبکہ اسلامی تعلیمات کی روسے ماں باپ کے نافرمان انجام بدکے سزاوار ہیں۔اسلامی تعلیمات کی روسے ایک تو پیداکرنیوالے ماں باپ ہیں ،دوسرے خسروخوش دامن اورتیسرے اساتذہ کوبھی ماں باپ قراردیاگیا ہے اوران میں سے ہررشتہ بجاطورپرصلہ رحمی اوراحترام کامستحق ہے۔ ریاست بھی ماں ہوتی ہے اورکوئی غیورانسان ماں کوگالی نہیں دے سکتا ۔ماں کے آنچل کاتقدس برقراررکھنے کیلئے غیور بیٹوں کو بارہا سردھڑکی بازی لگاتے دیکھاگیا ہے ۔ایک وہ گمنام بیٹے تھے جوماں کی محبت کاقرض چکانے کیلئے اپنے وجودسے بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوںکے پرخچے اڑاتے اورجام شہادت نوش کرتے رہے ۔ہماری ماں کاایک نڈراورقابل فخربیٹا راشدمنہاس شہید بھی تھا جس نے قومی رازدشمن کی دسترس میں جانے سے روکنے اورقومی غدارکوجہنم واصل کرنے کیلئے اپناطیارہ زمین پرگرادیا اورخودابدی کامیابی کاآسمان چھولیا۔جہاںاس دھرتی ماں کے کروڑوں جانثار بیٹے اوربیٹیاںہیں وہاںکچھ نافرمان اورنادان بچے بھی ہیں جوماں کی آن بان اورشان کاسوداکرتے ہوئے رتی بھرشرم محسوس نہیں کرتے ۔جودشمن کودوست اورشیطان کومسیحا سمجھتا ہووہ عہدحاضر کاابوجہل ہے ۔امریکہ ،انڈیا اوراسرائیل سے پاکستان کیخلاف مددمانگنا یعنی اسلام اورمسلمانوں کی بجائے کفار کواپناہمدردسمجھنا جہالت،اپنوں سے عداوت اوراخلاقی گراوٹ کے سواکچھ نہیں۔انسانی تاریخ غداروں کے سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہے ، غدار جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہووہ شرمناک انجام سے دوچارہوا ۔غداروں کوموت کے بعدبھی لعنت ملامت کاسامنا کرناپڑتا ہے اورغداروں کے بچے اپنے باپ کانام بتاناپسند نہیں کرتے اورکوئی ان کی قبورپرفاتحہ خوانی تک نہیں کرتا ۔<br />
اگرایک مسلمان دوسرے مسلمان کاحق غصب کرلے توبھی متاثرہ مسلمان اس کیخلاف اللہ تعالیٰ سے مددمانگتا ہے وہ کسی کافر کی دہلیز پرسجدہ ریز نہیں ہوتااورنہ باطل قوتوں کے ایوانوں کاطواف کرتا ہے ۔میں کوئی مفتی نہیں مگر میرے نزدیک جو پاکستان کیخلاف امریکہ ،انڈیا اوراسرائیل سے مددمانگتا ہے اس کااسلام ایک سوالیہ نشان ہے ،امریکہ کے شر سے دنیا کاہرسچامسلمان پناہ مانگتا ہے جبکہ انڈیا اوراسرائیل کے اندرحکمرانوں کی سرپرستی میں روزانہ فلسطینی اوربھارتی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ۔ اپنے نام کے ساتھ حسین لکھناالطاف کاحق نہیں کیونکہ اس میں حسینیت والی کوئی بات نہیں۔مجھے اطمینان ہے میں مروں گاتومجھے میرے وطن میں دفنایاجائے گاجبکہ میرے وطن کے غدارجہاں چھپے بیٹھے ہیں انہیں شایدوہاں کی مٹی بھی قبول نہ کرے لیکن میرے وطن کی پاک مٹی انہیں ہرگز نصیب نہیں ہوگی ۔غداروں کودشمن ملک کے حکمران پسندنہیں بلکہ استعمال کرتے ہیں اوراپنے ایجنڈے کی تکمیل کے بعد ان استعمال شدہ غداروں کوان کی قوم کے رحم وکرم پرچھوڑدیاجاتا ہے ۔جس نے چار دہائیوں میں پاکستان کے ساتھ وفانہیںکی وہ بھارت سے کیا وفاکرے گا۔ ریاست کوموت نہیں آتی جبکہ غدار زندہ ہوتے ہوئے بھی زندہ نہیں ہوتے ۔<br />
بھارت میں گائے کو گاﺅماتا جبکہ اس کے مُوت کواَمرت ماناجاتا ہے۔بھارت میں گائے کے گوبراورپیشاب سے کئی ادویات تیارکی جاتی ہیں لہٰذاءکسی مسلمان کیلئے قابل استعمال نہیں۔مسلمان بھارت کے اندرتیارہونیوالی مختلف مصنوعات کے حلال ہونے کے حوالے سے بھرپور اطمینان اورتسلی کے بغیر انہیں ہرگز استعمال نہ کریں ۔ہندوﺅں کی گاﺅماتابھارتی شاہراہوں پرآزادانہ پھرتی اورچرتی ہیں کوئی انہیں روک نہیں سکتا،وہاں اس کی پرستش کی جاتی ہے اوراگرکوئی مسلمان شہری بکرے کوگوشت بھی پکائے توگائے کے گوشت کے شبہ میں اس کے گھرپردھاوابول دیااوراہل خانہ کوشدیدزدوکوب کیا جاتا ہے ،بیشترواقعات میں محض شک کی بنیادپر مسلمان بے موت مارے جاتے ہیں۔پڑوسی ملک میں گاﺅماتا انسانوں اوربالخصوص مسلمانوں سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے جبکہ ہمارے ملک میں کچھ کوتاہ اندیش ریاست جوایک ماں ہوتی ہے اس کی تعظیم اورتکریم نہیں کرتے ۔جو انسان اپنی ماں کوگالی دے وہ حمیت سے عاری ہے اورجس میں حمیت نہیں وہ انسان حیوان سے بدتر ہے۔انسان کواس کے شعور اورضمیر کی بنیادپراشرف المخلوقات کہاجاتا ہے مگر اس عہدکے زیادہ ترانسانوں نے ضمیر اورشعورکواپنے اندردفنادیا ہے ،دنیا میں دن بدن انسان بڑ ھ رہے ہیں جبکہ انسانیت ناپیدہوتی جارہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>http://aapkiawaz.dk/2016/09/%d9%85%d8%a7%da%ba-%da%a9%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86-%db%94%db%94%db%94%db%94%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%b3-%d8%af%d9%86-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%b6-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>

<!--
Object Caching 0/0 objects using Disk
Page Caching using Disk: Enhanced 

Served from: aapkiawaz.dk @ 2024-04-10 03:31:51 by W3 Total Cache
-->