ٹی وی شوزکو عدالت نہ بنائیں طارق محمود مرزا ۔ سڈنی ، آسٹریلیا چند برس قبل کی بات ہے کہ مجھے آسٹریلیا کے مشہور ٹی وی چینل نائن کے پروگرام60 منٹ میں شرکت کی دعوت ملی ۔ اس پروگرام میں مختلف کیمونیٹیز کے چیدہ چیدہ صحافیوں کے علاوہ فیڈرل امیگریشن منسٹر اورحزبِ اختلاف سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے ارکانِ پارلیمنٹ بھی موجود تھے ۔

یہ پروگرام غیر قانونی انسانی سمگلنگ کے متعلق تھا ۔ باقاعدہ بحث شروع ہونے سے پہلے میزبان نے اس موضوع پر اپنی تحقیقی فلم دکھائی ۔ اس فلم کا آغاز میرے لیے دھماکے دار تھا کیونکہ کیمرا میرے شہر راولپنڈی کا قدیمی راجہ بازار دکھا رہا تھا۔ چینل نائن کایہی میزبان جو اس وقت ہمارے سامنے بیٹھا تھا راجہ بازار میں کھڑا اس بازار کا تعارف کرواتے ہوئے ہمیں ایک ٹریول ایجنٹ کے آفس کے بارے میںبتا رہا تھا ۔ کیمرے نے میزبان سے ہٹ کر ٹریول ایجنسی پر فوکس کر لیا۔ میزبان نے بتایا کہ یہ ٹریول آفس در پردہ انسانی سمگلنگ میں ملوث ہے ۔ ثبوت کے طور پر چینل نائن نے ایک پاکستانی شخص کو بیرونِ ملک جانے کا خواہش مند بنا کر دفتر کے اندر بھیجا ۔ اس شخص کے پاس ایسا خفیہ کیمرہ موجود تھا جو اندر کا منظر اور گفتگو ریکارڈ کر رہا تھا ۔ ٹریول ایجنٹ لوگوں کو آسٹریلیا میں غیر قانونی طریقے سے پہنچانے کا طریقہ اور اس کا معاوضہ طے کر رہاتھا جب کہ باہر موجود چینل نائن کے کیمرے یہ ساری گفتگو ریکارڈ کر رہے تھے ۔میزبان نے بتایا کہ ایسے دفاتر پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود ہیں جو ہزاروں ڈالر لے کر لوگوں کو انڈونیشیا کے راستے آسٹریلیا کے سمندروں میں دھکیل دیتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر افغانی ہوتے ہیں ۔اس نے کئی دفاتر کے نام اور پتے بھی بتائے جو در پردہ انسانی سمگلنگ کا یہ مذموم کام انجام دیتے ہیں ۔اس فلم کے اگلی سین میں ہم انڈونیشیا کے شہر جکارتہ کے ایک تنگ گلیوں والے علاقے میں واقع ایک پاکستانی ریستوارن میں پہنچ گئے ۔ چینل نائن کا یہ میزبان اور اس کے عملے کا پاکستانی شخص یہاں بیٹھے ایک پاکستانی اور ایک انڈونیشین سے بھاﺅ تاﺅ کر رہے تھے ۔ یہ بھاﺅ تاﺅ خواہش مند افراد کو غیر قانونی طریقے سے کشتیوں میں بٹھا کر آسٹریلیا کے ساحلوں تک پہنچانے کے متعلق تھا ۔ بدقسمتی سے یہاں بھی ایک پاکستانی ایجنٹ سرگرم نظر آیا ۔ وہیں بیٹھے بیٹھے انہوں نے دس افراد کو آسٹریلیا پہنچانے کی ڈیل طے کر لی جبکہ یہ گفتگوبھی کیمرے میں ریکارڈ ہو رہی تھی۔ بعد میں میزبان نے دونوں جگہوں پرایجنٹ کے سامنے اپنی اصلیت ظاہر کرکے اسے خوب آڑے ہاتھوں بھی لیا ۔ یوں اس ٹی وی اینکر نے ایک پروگرام کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں اور انڈونیشیا سمیت مختلف ملکوں میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے اس پر بحث کا آغاز کیا ۔
اس بحث سے پہلو تہی کر کے میں قارئین کی توجہ اس چینل اور اس کے میزبان کی پیشہ ورانہ محنت کی طرف دلانا چاہتا ہوں ۔اس صحافتی تحقیق پر کتنی محنت اور سرمایہ صرف ہوا ہوگا اس کا اندازہ لگانا چنداںمشکل نہیں ہے ۔اس کے باوجود میزبان نے دورانِ پروگرام اس موضوع پر اپنی رائے دینے کی بجائے مختلف مہمانوں کی مختلف آراءانتہائی توجہ سے سنیں اور انہیں پروگرام کا حصہ بنایا ۔آسٹریلیا میں ٹی وی چینل بہت کم ہیں ان کے بیشتر پروگرام تفریحی، معلوماتی، کھیل، موسیقی اور ذہنی آزمائش پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ خبروں اور حالاتِ حاضرہ کے لیے مختصر وقت مختص ہوتا ہے ۔ان میں بھی سیاسی خبریں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں کیونکہ عوام کو سیاست سے زیادہ عوامی مسائل کے حل ، معاشی خوشحالی ، امنِ عامہ اور صحت و سلامتی سے دلچسپی ہو تی ہے ۔ اس لیے ٹی وی چینل سیاست دانوں کے بیانات کے بجائے عوامی مسائل پر مبنی خبریں اور پروگرام دکھاتے ہیں۔ اگر کبھی کسی سیاست دان کا انٹرویو ہو بھی تو صرف کسی متعلقہ موضوع پر سوال جواب ہوتے ہیں ۔ موضوع سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ہوتی ۔ میزبان سخت سوال پوچھتا ہے مگرجواب پر اپنا ردّعمل ظاہر نہیں کرتا نہ ہی اس موضوع پر اپنی رائے دیتا ہے بلکہ یہ کام ناظرین کے لیے چھوڑ دیتا ہے ۔
اس ساری تفصیل اور پسِ منظر کو ذہن میں رکھ کر پاکستان کے ٹی وی ٹاک شوزدیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ عدالت سے باہر عدالت لگی ہوئی ہے۔ ان شوز کے اینکر ز عقلِ کُل رکھتے ہیں۔ وہ ملک کے ہر شعبہِ حیات میں رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ وہ بیک وقت معیشت، سیاست ، حکومت ، انصاف ، مذہب اور عمرانیات پر اتنا عبور رکھتے ہیں کہ تمام سیاسی قائدین ، ارکانِ پارلیمنٹ ، جج، سرکاری افسران ، اساتذہ، علمائ، سرکاری افسران ، ماہرینِ اقتصادیات ، بینکر حتیٰ کہ ماہرِ تعمیرات ان اینکرز کے آگے طفلِ مکتب ہیں ۔ وہ حکومت او رسیاسی پارٹیوں کو سبق سکھاتے نظر آتے ہیں ۔ ججوں ، سرکاری حکام ، پولیس اور دوسرے محکموں کی ترقیوں ، تعیناتیوں اور کارکردگی میں کیڑے نکالنے اور مشورے دینے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کے عمر بھر کے تجربوں کو جھٹلا کر انہیں غلط ثابت کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ نہ صرف و ہ کسی بھی جماعت ، ادارے یا شخص کی نیت، ارادے سے بھی قبل از وقت آگاہ ہوتے ہیں ۔ مثلاََ انہیں علم ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان عثمان بزدار کو کچھ عرصے بعد تبدیل کر دیں گے یا یہ کہ نواز شریف پارٹی کی قیادت شہباز شریف کو نہیں بلکہ مریم نواز کو دیں گے یا آصف زرداری اعتزاز احسن کو دانستہ ہر وانا چاہتے ہیں۔اس قسم کی پیشن گوئیاں وہ اس طرح کر رہے ہوتے ہیں جیسے انہیں غیب کا علم ہے ۔یہ اینکر باہر نکل کر عوامی مسائل کو سمجھنے اور دکھانے کی کوشش کرنے کے بجائے سٹوڈیو میں بیٹھ کر بحث برائے بحث کے ذریعے ہیجان برپا کرتے رہتے ہیں ۔ ان کے موضوعات فروعی،غیر عوامی اور فضولیات پر مبنی ہوتے ہیں ۔عموماََ سیاست دان اور ان کے بیانات زیرِ بحث رہتے ہیں جس کا عوام کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ان اینکر خواتین وحضرات کی مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہوتی۔ ایسے میں ان سے ایک متوازن اور غیر جانب دار پروگرام کی توقع نہیں کی جا سکتی جو صحافت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے ۔ وہ مہمانوں کو بلا تو لیتے ہیں لیکن انہیں بولنے کا موقع کم ہی دیتے ہیں یا پھر ان سے زبردستی اپنی مرضی کی بات کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسی بحث کا کوئی فائدہ نہیں جس میں میزبان جانب دار ہو اور وہ لوگوں پر اپنی رائے مسلط کر کے بحث کو دانستہ یک طرفہ بنا دے ۔ ایسے پروگرام میں شرکت کرنے والوں اور دیکھنے والوں کو بدمزگی ، ہیجان انگیزی اور وقت کے زیاں سوا کچھ نہیں ملتا ۔ بے شمار ٹی وی چینلوں میں خبروں کی بھرمار اور ایسی بے معنی بحث نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔حتیٰ کہ رپورٹر حضرات بھی خبر کے ساتھ اپنا تبصرہ دینا ضروری سمجھتے ہیں ۔
ایسے میں اگر کوئی سچی خبر اور حقیقت پر مبنی متوازن تبصرہ سننا چاہے تو اسے بی بی سی یا دیگر بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے ۔دوسری طرف ان چینلز پر ادبی ، معلوماتی ، تعلیمی اور فنی پروگرام دیکھنا چاہے تو وہ عنقا ہیں ۔ ادب معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتا ہے اور دلوں میں نرمی اور محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اتنے سارے چینل ہونے کے باوجود کوئی معیاری ادبی پروگرام نہیں دکھایا جاتا ۔اسی طرح نوجوانوں کو پاکستان کی تاریخ ، جغرافیہ ، علاقائی ثقافت ، قومی مشاہیر ، کھیل اور ادب و فن دکھانے کا کسی چینل پر اہتمام نہیں کیا جاتا ۔ اگر یہ چینل اس طرح کے معیاری پروگرام دکھانے سے قاصر ہیں تو قوم کو نفرت و عداوت اور گروہ بندی کی طرف تو نہ دھکیلیں ۔ ہر وقت دوسروں کو نصیحت کرنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے اور خود کو بدلنے کی کوشش بھی کریں ۔ تبدیلی ہمیشہ خود کو بدلنے سے شروع ہوتی ہے ۔ پہلے افراد پھر ادارے اور پھر قوم تبدیل ہوتی ہے ۔کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدّر کا ستارا۔